چالیس کی دہلیز پر - Jamia Al-Dirasat Al-Islamia Karachi
انتظار فرمائیے...
Follow us:
شَوَّال‎ ١٥ ١٤٤٧
تازہ ترین:
اعلان برائے اختتام تعطیلات: تمام طلباء کو مطلع کیا جاتا ہے کہ سالانہ تعطیلات بروز اتوار 29 مارچ 2026ء کو ختم ہو رہی ہیں 30 مارچ 2026ء بروز پیر سے تعلیم کا آغاز ہو رہا ہے۔ تمام طلبہ وقت پر تشریف لائیں (بحکم مدیر الجامعہ )
تازہ ترین:
اعلان برائے اختتام تعطیلات: تمام طلباء کو مطلع کیا جاتا ہے کہ سالانہ تعطیلات بروز اتوار 29 مارچ 2026ء کو ختم ہو رہی ہیں 30 مارچ 2026ء بروز پیر سے تعلیم کا آغاز ہو رہا ہے۔ تمام طلبہ وقت پر تشریف لائیں (بحکم مدیر الجامعہ )

چالیس کی دہلیز پر

40 سال کی دہلیز پر

تحریر: مفتی ابو عبیدہ جان محمد

کیا آپ 40 سال کے ہو گئے ہیں یا قریب قریب ہیں؟ تو پھر جانیں! یہ عمر کا وہ حصہ ہے جس میں قرآن مجید نے آپ کو ایک خاص نصیحت کی ہے اور وہ نصیحت ایک خوبصورت دعا کے ضمن میں سمجھائی ہے ۔ وہ دعا یہ ہے:

حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي ۖ إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ۔ (الاحقاف: 15)

ترجمہ: “حتیٰ کہ جب وہ (انسان) اپنی پوری قوت اور 40 سال کی عمر کو پہنچ گیا تو کہتا ہے: اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کی ہیں اور یہ کہ میں وہ نیک عمل کروں جو تجھے پسند ہوں اور میرے لیے میری اولاد کی اصلاح فرما دے، بے شک میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور بے شک میں مسلمانوں میں سے ہوں” ۔

چالیسویں سال کی خصوصیت

40 سال کی عمر انسان کی زندگی کا ایک اہم موڑ ہے، جس میں سابقہ زندگی کا تجزیہ اور آئندہ کے اہداف کا تذکرہ ہوتا ہے ۔ امام شوکانی لکھتے ہیں کہ جس کی عمر 40 سال ہو جائے اسے کثرت سے یہ دعا مانگنی چاہیے ۔ اس عمر میں انسان باشعور اور بردبار ہو جاتا ہے، جذباتیت اور جنونی کیفیت رخصت ہونے لگتی ہے ۔

یوں سمجھیں کہ 40 سالہ انسان ایک پہاڑ کی چوٹی پر کھڑا ہے، ایک طرف وہ دور ہے جو وہ گزار چکا ہے اور دوسری طرف وہ دور ہے جہاں سے وہ دوبارہ نیچے (ڈھلان) کی طرف جاتا ہے ۔ یہ عمر اس فصل کے کٹنے کا آغاز ہے جو اب تک بوئی گئی ہے ۔

نبوت اور 40 سال

اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کو 40 سال کی عمر میں نبوت سے سرفراز فرمایا ۔ مفسرین کے مطابق کسی بھی نبی کو 40 سال سے پہلے نبوت نہیں ملی، جس سے اس عمر کی اہمیت واضح ہوتی ہے ۔ 40 سال سے قبل کی غلطیاں اس قدر بڑی شمار نہیں ہوتیں، مگر اس کے بعد کی کوتاہی پر سخت محاسبہ ہوتا ہے کہ “اب اسے کب عقل آنی ہے” ۔

والدین اور اولاد کے لیے دعا

اس عمر میں انسان کو سہارے کی ضرورت پیش آتی ہے، جس سے اسے اپنے والدین کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔

والدین: دعا میں والدین کا تذکرہ اس لیے ہے کہ انسان ان کی نعمتوں کا شکر ادا کرے ۔

اعمالِ صالحہ: “وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ” یعنی ایسے عمل کی توفیق جو سنت کے مطابق اور ریا کاری سے پاک ہو ۔

اولاد کی اصلاح: “وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي” میں لفظ “فی” کا مطلب ہے کہ اصلاح کا یہ عمل نسلوں میں جاری و ساری رہے ۔

توبہ اور انجام

“إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ” کا مطلب ہے کہ انسان جوانی کی سرکشی اور نافرمانی سے باز آ جائے ۔ 40 سال کی عمر میں توبہ کی تجدید بہت ضروری ہے ۔ اگلی آیت میں اللہ کا وعدہ ہے کہ جو لوگ اس عمر میں رجوع کرتے ہیں، ان کے اچھے اعمال قبول کیے جائیں گے، ان کی کوتاہیوں سے درگزر کیا جائے گا اور وہ جنت والوں میں ہوں گے ۔

آخری بات: یہ دعا اولاد کی اصلاح کے لیے اکسیر اور مقبول دعاؤں میں سے ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۔

Share This:
Tags: , ,

Leave Your Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *