لڑائی وجھگڑے کے دوران بیک وقت صرف ایک طلاق – Jamia Al-Dirasat Al-Islamia Karachi
انتظار فرمائیے...
Follow us:
شَوَّال‎ ٢ ١٤٤٧
تازہ ترین:
جامعہ الدراسات الاسلامیہ کراچی کی ویب سائٹ کا باقاعدہ آغاز ⭐ اپنے دینی مسائل کا حل اب آن لائن دارالافتاء سے حاصل کریں ⭐ داخلے کے لیے دیئے گئے نمبر پر رابطہ کریں
تازہ ترین:
جامعہ الدراسات الاسلامیہ کراچی کی ویب سائٹ کا باقاعدہ آغاز ⭐ اپنے دینی مسائل کا حل اب آن لائن دارالافتاء سے حاصل کریں ⭐ داخلے کے لیے دیئے گئے نمبر پر رابطہ کریں
Untitled design

لڑائی وجھگڑے کے دوران بیک وقت صرف ایک طلاق

سوال

گزارش ہے کہ مسمی نوید بن انور نے اپنی بیوی مسماۃ یاسمین کے مطالبے پربتاریخ4دسمبر2025لڑائی وجھگڑے کے دوران بیک وقت صرف ایک طلاق بذریعہ واٹس ایپ میسج دے دی ہے۔ نویداحمدحلفیہ اقرار کرتاہوں کہ اس کے علاوہ اپنی بیوی کوکبھی زبانی یا تحریری طلاق نہیں دی۔ اورمیںمسماۃ یاسمین اپنے کیئے پر شرمندہ و پریشان ہوں نیز ہم دونوںقرآ ن و حدیث کی روشنی میں زندگی بسرکرنے کا عہد کرتےہیں۔برائے مہربانی ہماری راہنمائی فرمائیںکہ ہم اکٹھے رہ سکتے ہیں ؟ ۔      ۭ سائلہ :یاسمین :مکان نمبر00000گلشن سرجانی فیز 2 کراچی  

جواب

 
الحمدللہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وبعد!
 الجواب بعون الوھاب بصورت صحت و حقیقت سوال
سوال نامہ میں مذکور حلفیہ بیان کے مطابق سائلہ یاسمین کے مطالبے پر نویداحمدنے اپنی بیوی کو صرف ایک طلاق بذریعہ میسج دی ہے نیز اس کے علاہ کبھی حقیقت یا مذاق میں بھی زبانی یا تحریری طلاق نہیں دی ، لہذا پہلی رجعی طلاق واقع ہوچکی ہے۔تین ماہواریاں گزر نے سے قبل عادل گواہوں کی موجودگی میںنویداحمدکو رجوع کا حق حاصل ہے۔
فرمان باری تعالی ہے : ’’ اَلطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ‘‘۔(ترجمہ) طلاق(وقفہ وقفہ سے)  دوبار ہے پھر چاہے تواسے (بیوی کو)اچھے اندازسے روک لے یا احسن طریقے سے چھوڑدے۔سورۃالبقرۃ۲۲۹
 فرمان باری تعالی ہے :’’ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ‘‘اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، (ان کی نافرمانی کرکے)اپنے اعمال کو باطل نہ کرو۔ (سورہ محمد33)
جو بغیر کسی شرعی عذر کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہے وہ اللہ تعالی کو ناراض کرتی ہے ۔ گھروں کو توڑنا قبیح فعل ہے جس پر شیطان ہی خوش ہوتاہے۔
 اللہ تعالی ہم سب کو ایک دوسرے کے حقوق اداکرنے اور تمام معاملات میں قرآن و سنت پرعمل کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین
 

دارالافتاء :جامعہ الدراسات الاسلامیہ کراچی