عربی زبان کی فضیلت - Jamia Al-Dirasat Al-Islamia Karachi
انتظار فرمائیے...
Follow us:
شَعْبَان ١٣ ١٤٤٧
تازہ ترین:
31 جنوری بروز ہفتہ بعد نماز عصر تقریب تکمیل صحیح مسلم و تقسیمِ إسناد و انعامات منعقد ہوگی ان شاء اللہ
تازہ ترین:
31 جنوری بروز ہفتہ بعد نماز عصر تقریب تکمیل صحیح مسلم و تقسیمِ إسناد و انعامات منعقد ہوگی ان شاء اللہ

عربی زبان کی فضیلت

قرآن و حدیث کو سمجھنے کے لیے عربی سیکھنا کیوں ضروری ہے؟

امتِ مسلمہ کے لیے عربی زبان کی اہمیت محض ایک لسانی یا ثقافتی تعلق تک محدود نہیں، بلکہ یہ دین کی اساس اور ہماری ایمانی شناخت کا لازمی جز ہے۔ یہ وہ مبارک زبان ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری کلام، قرآنِ مجید، کے لیے منتخب فرمایا اور جس میں ہمارے پیارے نبی، حضرت محمد ﷺ، نے اپنے ارشادات (احادیث) بیان فرمائے۔ مگر کیا ہم اس زبان کی فضیلت اور دین کو سمجھنے میں اس کے کلیدی کردار سے بخوبی واقف ہیں؟

قرآنِ مجید اور عربی زبان کا اٹوٹ رشتہ: اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو “عربی مبین” (واضح عربی) میں نازل فرمایا۔ (سورۃ یوسف، آیت 2)۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن کے گہرے معنی، اس کی بلاغت، اس کے اعجاز اور اس کے دقیق اشارات کو سمجھنے کے لیے عربی زبان کا علم ناگزیر ہے۔ ترجمے بلاشبہ مفید ہوتے ہیں، مگر وہ اصل متن کے مفہوم، اسلوب اور روحانی تاثیر کا صرف ایک جز پیش کر پاتے ہیں۔ ایک عربی دان شخص جب قرآن پڑھتا ہے تو الفاظ کے چناؤ، جملوں کی ساخت اور محاورات کی گہرائی میں اتر کر کلامِ الٰہی کی عظمت کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔

حدیث نبوی ﷺ کی تفہیم اور عربی کی ضرورت: قرآن کے بعد ہماری رہنمائی کا دوسرا بڑا ماخذ احادیثِ رسول ﷺ ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے جو باتیں ارشاد فرمائیں، جو اعمال کر کے دکھائے اور جن کاموں سے منع فرمایا، وہ سب عربی زبان میں ہیں۔ احادیث کا صحیح مفہوم جاننے کے لیے عربی گرائمر، صرف و نحو اور لغوی باریکیوں کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ بسا اوقات ایک لفظ کے کئی معنی ہوتے ہیں اور سیاق و سباق کے مطابق صحیح معنی کا تعین صرف عربی زبان پر عبور رکھنے والا ہی کر سکتا ہے۔ غلط ترجمہ یا سطحی فہم گمراہی کا سبب بن سکتا ہے۔

دینی علوم میں گہرائی حاصل کرنے کا واحد راستہ: دینی علوم جیسے تفسیر، فقہ، اصولِ حدیث، سیرت، اور اسلامی تاریخ پر مستند کتب کا ذخیرہ عربی زبان میں ہے۔ ان علوم کے ماہرین (علماء) نے اپنی تحقیقات اور اجتہادات عربی میں قلمبند کیے ہیں۔ اگر کوئی طالبِ علم ان علوم میں حقیقی گہرائی اور بصیرت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے عربی زبان کا سیکھنا ایک لازمی شرط ہے۔ یہ دروازہ ہے جو اسے علومِ نبوت کے خزانوں تک پہنچاتا ہے۔

روحانی تعلق میں اضافہ: عربی زبان سیکھنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے ہماری عبادات میں خشوع و خضوع بڑھتا ہے۔ جب ہم نماز میں قرآن کی آیات پڑھتے ہیں یا دعا مانگتے ہیں اور اس کے الفاظ و معانی کو سمجھتے ہیں تو ہمارے دل میں اللہ سے قربت اور تعلق کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ یہ محض الفاظ کی ادائیگی نہیں رہتی بلکہ دل و دماغ کی حاضری بن جاتی ہے۔

آخری بات: عربی زبان سیکھنا محض ایک علمی مشغلہ نہیں، بلکہ یہ ہمارے دین کی روح سے جڑنے کا ایک الٰہی ذریعہ ہے۔ یہ ہمیں قرآن کی روشنی اور سنت کی رہنمائی میں زندگی گزارنے کے لیے درکار بصیرت فراہم کرتی ہے۔ الجامعہ جیسے ادارے اسی مقصد کے لیے کوشاں ہیں کہ ہماری نئی نسل اس مبارک زبان کو سیکھ کر اپنے دین کو صحیح معنوں میں سمجھ سکے اور اس پر عمل پیرا ہو سکے۔ آئیے، اس اہم فریضے کو نبھائیں اور عربی سیکھ کر قرآن و حدیث کے چشمہ صافی سے براہِ راست سیراب ہوں۔

Share This:

Leave Your Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *