رزقِ حلال کی برکات
کاروبار اور ملازمت میں دیانتداری کی اہمیت
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو نہ صرف ہمیں عبادات کا طریقہ سکھاتا ہے بلکہ زندگی کے ہر شعبے، خصوصاً معاشی معاملات میں ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ “رزقِ حلال” صرف ایک معاشی اصطلاح نہیں بلکہ ایک مومن کی زندگی کا بنیادی مقصد اور روحانی ارتقاء کا زینہ ہے۔
رزقِ حلال کی اہمیت
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
“اے لوگو! زمین میں جو کچھ حلال اور پاکیزہ ہے اسے کھاؤ” (سورۃ البقرہ)۔
حلال رزق انسان کے قلب کو منور کرتا ہے اور دعاؤں کی قبولیت کا سبب بنتا ہے۔ اس کے برعکس، ناجائز ذرائع سے حاصل کیا گیا مال نہ صرف دنیا میں بے برکتی لاتا ہے بلکہ آخرت میں بھی شدید نقصان کا باعث ہے۔
کاروبار میں دیانتداری
ہمارے پیارے نبی ﷺ خود ایک کامیاب اور دیانتدار تاجر تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
“سچا اور امانت دار تاجر (قیامت کے دن) انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا” (ترمذی)۔
ناپ تول میں کمی نہ کرنا: کاروبار میں برکت کا پہلا اصول دیانتداری ہے۔
عیب چھپائے بغیر فروخت: مال کا عیب بتا کر بیچنا سنتِ نبوی ہے اور اس سے خریدار کا اعتماد بڑھتا ہے۔
ملازمت میں امانت داری
ملازمت بھی ایک عہد ہے جس کی پاسداری ضروری ہے۔
وقت کی پابندی: اپنے دفتری اوقات کو ایمانداری سے ڈیوٹی پر صرف کرنا رزق کو حلال بنانے کے لیے ضروری ہے۔
مہارت کا درست استعمال: اپنی ذمہ داریوں کو بہترین طریقے سے نبھانا اور ادارے کے مفاد کو مقدم رکھنا دیانتداری ہے۔
رزقِ حلال کے ثمرات
دلی سکون: حلال کمانے والے کا ضمیر مطمئن ہوتا ہے۔
نسلوں کی تربیت: حلال رزق سے پلنے والی اولاد میں نیکی کا مادہ زیادہ ہوتا ہے۔
معاشی برکت: مال تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، اگر حلال ہے تو اس میں ایسی برکت ہوتی ہے جو بڑی بڑی ناجائز رقوم میں نہیں ہوتی۔
Leave Your Comments