بسم اللہ الرحمن الرحیم

پہلا دینی مدرسہ
معلم انس و جن کی اشدو اہم ذمہ داری ہی تہذیب و تزکیۃ النفوس تھی، فرمان باری تعالی ہے: وہی (اللہ ہی تو) وہ ذات ہے جس نے ان پڑھ لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا، جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں، اور انہیں (کفر و شرک کی آلائشوں سے) پاک کرتے ہیں، اور انہیں قرآن و سنت کی تعلیم دیتے ہیں۔بے شک وہ لوگ ان کی بعثت سے قبل صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔ سورہ جمعہ


اللہ کا مومنوں پر یقینا یہ احسان ہے کہ اس نے ان کے لئے انہی میں سے ایک رسول بھیجا، جو اس کی آیتوں کی ان لوگوں پر تلاوت کرتے ہیں، اور انہیں پاک کرتے ہیں، اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں، اور اس سے پہلے وہ لوگ کھلی گمراہی میں تھے۔ سورہ آل عمران


امام الانبیا جن کی ذمہ داری فرمان باری تعالیٰ کے مطابق یہ تھی کہ ’’اللہ کا مومنوں پر یقینا یہ احسان ہے کہ اس نے ان کے لئے انہی میں سے ایک رسول بھیجا، جو اس کی آیتوں کی ان لوگوں پر تلاوت کرتے ہیں، اور انہیں پاک کرتے ہیں، اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں، اور اس سے پہلے وہ لوگ کھلی گمراہی میں تھے۔‘‘

نے کتاب و حکمت کی تعلیم اور تزکیہ و تربیت کے لئے مکہ کی غیر معروف گھاٹی میں ارقم بن ابی الارقم مخزومی کے گھر کو بطور مدرسہ منتخب کیا جو دار ارقم کے نام سے مشہور ہے۔ جب مکۃ المکرمۃ کی سرزمین آپ اور آپ کے اصحاب پر باوجود اپنی کشادگی کے تنگ ہوگئی تو آپ اپنے رفقاءکے ہمراہ مدینہ تشریف لائے۔ وہاں ایک مدرسہ کی داغ بیل ڈالی ، جو صفہ کے نام سے جاناجاتاہے ۔ جہاں تشنگان علم کشاں کشاں چلے آئے۔

ژروم کا صہیب ، حبشہ کا بلال ، فارس کا سلمان اور دیگراصحاب رسول انہیں مدرسوں کے طالب علم تھے۔ یہاں سے جو کرنیں پھوٹیں ان سے پوری دنیامنور ہوئی۔

برصغیرمیں دینی مدارس کا کردار اور ان کی ضرورت و اہمیت:
دنیائے عرب خصوصا سعودی عرب میں عقیدہ تو حیداور اسلامیات ابتدائی کلاس سے دیگر کتب کے ساتھ ساتھ پڑھائے جاتے ہیں۔

یہی سلسلہ پی ایچ ڈی تک جاری و ساری رہتا ہے لیکن برصغیر میں چونکہ ہندووں کے ہاں طبقاتی نظام کو مذہب کی حیثیت حاصل ہے، بھارتی قابض استعمار نے اسی طبقاتی نظام کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے ایسا شب خون مارا کہ مسلمانوں کو طبقات میں بانٹ دیا۔ تجار کا طبقہ سیاست دان، بیوروکریٹ، گریجویٹ، لیبر طبقہ اور آخری درجہ دینی طبقہ (مولوی حضرات) باقی طبقات میں دینی علم سیکھنا شجر ممنوعہ قرار دیا۔ دینی طبقہ کا کام صرف دین پڑھنا پڑھانا ہے، یہ کاروبار یا تجارت نہیں کرسکتے۔ اس طبقاتی نظام نے اسلام کی چولیں ہلادیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے حکمران، سیاست دان، بیوروکریٹس دین کی الف ب سے بھی واقف نہیں۔ کالج، یونیورسٹیوں میں آرٹس کونسل کے نام پر ایسی تعلیم دی جارہی ہے جو سراسر اسلام کے منافی ہے۔ بعض ایسی کتب پڑھائی جارہی ہیں جو اسلام سے متصادم بھی ہیں۔

ایسے حالات میں دینی مدارس ہی دین کا گہوارہ اور اسلام کی نشرو اشاعت کا ذریعہ ہیں جو کفار کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہے ہیں۔ اس وقت ملک میں دینی مدارس کے کردار کو محدود کردیا گیا ہے اور مزید کوششیں جاری ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی سر پرستی اور حوصلہ افزائی کی جائے۔ کل کو خدانخواستہ کہیں ایسا ہو کہ ہمیں نکاح و جنازہ پڑھانے والابھی نہ ملے۔
سندھ وبلوچستان میں کئی دیہات ایسے ہیں جہاں یہ صورت بن چکی ہے۔

تاسیس:
1979میں سابق صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق کے حکم پر یہ جگہ جامعہ کے لئے مختص کی گئی۔
1983میں باقاعدہ تعلیم کا آغاز کیا گیا۔ پوری دنیا سے تشنگان علوم اسلامیہ نے اس مادر علمی کا رخ کیا۔ 9/11 کے واقعہ سے قبل جامعۃ الدراسات الاسلامیہ میں 22 ممالک کے طلبہ زیر تعلیم تھے، لیکن نزاکت حالات کے پیش نظر غیر ملکی طلبہ واپس اپنے ملکوں میں چلے گئے۔