پاکیزہ دل، اہل ایمان کی نشانی

مفتی عبداللطیف
مدیر جامعۃ الدراسات الاسلامیہ، کراچی

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تمہارے جسم میں گوشت کا ایک ایسا لوتھڑا ہے، جب وہ ٹھیک ہوجائے تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے اور جب وہ خراب ہوجائے تو سارا جسم بگاڑ کی زد میںآ جاتا ہے۔ وہ لوتھڑا دل ہے۔ دل سارے جسم کا سردار ہے، تمام اعضاء اس کے تابع ہیں۔ اسپتالوں میں، لیبارٹریوں میں مختلف قسم کے ٹیسٹ کرواکر یہ جاننے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کہیں دل میں کوئی خرابی تو نہیں؟ انسان اپنے دل کے متعلق طبی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، لیکن انسان کو اس کے دل کے بارے میں اسلام نے جو معلومات دی ہیں، ہم نے کبھی اس کے بارے میں غور نہیں کیا کہ میرا دل کس قسم کا ہے؟ کس کیٹگری میں آتا ہے؟ دلوں کی اقسام ہیں۔ قلب سلیم بھی اللہ نے قرآن میں بیان کیا، قلب منیب بھی ہے، قلب مطمئن بھی ہے، قلب مہدی بھی ہے، قلب متکبر بھی ہے۔ اس کے علاوہ قلب مخبت، قلب وجل، قلب تقی، قلب حیی، قلب مریض، قلب اعمی، قلب لاھی اور قلب آثم بھی دلوں کی اقسام ہیں۔ کیا کبھی ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ میرا دل کس قسم کا ہے؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے کہا یا اللہ مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرنا، جس دن مال فائدہ دے گا نہ بیٹے فائدہ دیں گے اور نہ مال مویشی، کچھ بھی فائندہ مند نہیں ہوگا۔ ہاں صرف اس کو فائدہ ہوگا جو اپنے رب کے پاس اس حالت میں آیا جس کا دل سلیم تھا۔ اسلام پر صحیح سالم اور درست حالت میں اللہ کے پاس جانے والا انسان فائدے میں ہوگا۔

بلا شبہ دل سارے جسم کا بادشاہ ہے، کیوں کہ اس پر رب کائنات کی نگاہ ہے۔ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! اللہ تعالیٰ نہ تمہارے مال کو دیکھتا ہے اور نہ تمہاری شکلیں دیکھتا ہے۔ ہمارے ہاں یہی معیار ہے، مگر اللہ کے ہاں یہ معیار بالکل نہیں، اللہ کو اس سے کوئی غرض نہیں۔ اللہ تعالیٰ تو تمہارے دلوں کو، تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔ ارب پتی سے ایک فقیر اچھا ہو سکتا ہے، اگر اس کا دل اچھا ہے، اس کے اعمال اچھے ہیں۔ دنیا میں بڑا امیر کبیر شخص اگر اچھے دل اور اعمال کا مالک نہ ہو تو اللہ کے ہاں اس کا وزن ایک مچھر سے بھی زیادہ نہیں ہوگا۔ روز قیامت اس بات کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی کہ تم خوبصورت ہو یا بدصورت، لمبے قد کے ہو یا چھوٹے قد کے، امیر ہو یا غریب۔ تقویٰ اور ایمان ہی انسان کی حیثیت میں اضافہ کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سینے کی طرف اشارہ کرکے متنبہ کرتے تھے کہ لوگو! تقویٰ یہاں ہے۔

سورۃ حجرات میں ہے کہ بدو لوگ کہتے ہیں ہم مومن ہو گئے، مگر اللہ نے کہا کہ نہیں انہیں کہو تم مسلمان ہو۔ ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا، ظاہری مسلمان ہو۔ دل سارے جسم کا سردار کیوں ہے؟ اس لیے کہ اس میں ایمان ہوتا ہے۔ کسی بندے کا ایمان ٹھیک نہیں ہو سکتا، جب تک اس کا دل ٹھیک نہ ہو۔ اگر برتن صحیح نہ ہو تو اس میں آنے والی چیز بھی سالم نہیں ہوگی۔ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے سلسلہ صحیحہ میں بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے زمین میں کچھ برتن ہیں اور وہ نیک لوگوں کے دل ہیں۔ وہ برتن ایمان کے برتن ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو ان دلوں میں سب سے محبوب دل وہ لگتے ہیں جو نرم ہیں اور رقیق ہیں۔ ٹھنڈے مزاج والے ہیں۔ ہر وقت غصے والے دل اللہ کو پسند نہیں۔ ذرا سوچئے کیا کبھی ہم نے ایسے دل بنانے کی کوشش کی؟ مدینے میں رہنے والی لونڈیاں پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھامتی اور کہتی یا رسول اللہﷺ  میرے مالک نے آج مجھے کام زیادہ دے دیا ہے، میرے ساتھ کام کروائیں۔(بخاری) محدثین نے لکھا ہے کہ دیکھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل کتنا نرم تھا۔ کہاں اللہ کے رسول کا مرتبہ اور کہاں وہ لونڈیاں۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اہل ایمان کافروں کے لیے سخت اور آپس میں نرم ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کو اپنا محبوب بناتا ہے جو بڑآسان اور سہل ہو۔ پوچھا گیا کہ اللہ کے نزدیک سب سے اچھا انسان کون ہے؟ فرمایا: صدوق الانسان (سچی زبان والا) اور دوسرا وہ جو متقی ہو۔ اس کے دل میں کوئی حسد، کینہ، گناہ، نافرمانی اور بغض نہ ہو۔ مشہور حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو انسان ابھی مسجد میں داخل ہو گا وہ جنتی ہے، تین دن تک یہ کہا کہ وہ جنتی ہے اور ایک ہی صحابی روزانہ آتا رہا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما پیچھے لگ گئے کہ دیکھوں اس کا عمل کیسا ہے؟ یعنی وہ کون سا عمل ہے جو ہم میں نہیں ہے، جس کی وجہ سے اللہ کے رسولﷺ اس کو جنتی قرار دے رہے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اس کے ساتھ رہنے لگ گئے۔ سارا دن اس کے ساتھ رہے، پورے دن اس میں کوئی عمل ایسا نہیں نظر آیا جو باقی صحابہ نہ کرتے ہوں۔ رات بھی دیکھتے رہے، حتیٰ کہ تین دن تک کوئی عمل نظر نہیں آیا، جانے لگے تو کہنے لگے میں تیرے پاس اس لیے آیا تھا کہ تجھے دیکھوں کیا عمل کرتے ہو؟ کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تو جنتی ہے۔ جب حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما جانے لگے تو پیچھے سے آواز دی اور کہا کہ ایک ایسا عمل ہے جو میں کرتا ہوں اور آپ دیکھ یا محسوس نہیں کرسکے۔ میں رات کو سونے سے قبل تمام مسلمانوں کو معاف کر کے سوتا ہوں۔ میرے دل میں کسی مسلمان کے متعلق کوئی کینہ، غصہ اور بغض نہیں ہوتا، جس پر مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ضرور جنت دے گا، کیوں کہ یہ عمل باقی لوگوں میں موجود نہیں ہے۔

غور کریں کہ کیا میرا دل بھی اس طرح کا ہے، جس میں کوئی حسد نہ ہو۔ ایمان اور حسد ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے، کیوں کہ جس دل میں حسد آجائے تو ایمان جاتا رہے گا اور جس دل میں ایمان ہو تو حسد نہیں رہ سکتا۔ آج میں حسد کر کے اپنے آپ کو ایمان دار سمجھتا ہوں، ایسا نہیں ہو سکتا۔ حسد کی دو قسمیں ہیں، ایک یہ کہ دوسرے کی چیز چھن کر میرے پاس آ جائے اور دوسری قسم یہ ہے کہ اسے ملے یا نہ ملے مگر میرے پاس ضرور آنی چاہیے۔ دونوں قسموں میں یہ ہے کہ آپ اپنے خالق اور اس کی تقسیم پر راضی نہیں۔ شیطان نے بھی حسد کیا اور لعین ہوگیا۔ انسانیت میں سب سے پہلا قتل بھی حسد کی وجہ سے ہوا۔ پیغمبر یوسف علیہ السلام کے بھائیوں میں بھی حسد آ گیا تھا۔ اگر میں چاہتا ہوں کہ میرا دل اچھا ہو تو اپنے چھوٹے سے لوتھڑے کو ٹھیک کرلو، سارا جسم ٹھیک ہو جائے گا۔

٭…٭…٭