مسئلہ کشمیر، حکومت کیا کرے؟

 مفتی عبداللطیف

مدیرجامعہ الدراسات الاسلامیہ، کراچی

 

اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا، چاہے پوری دنیا اسلام کو ناپسند کرے۔ اسلام کی فطرت ہے کہ یہ ہمیشہ پھلے پھولے گا اور ترقی پائے گا، کوئی بھی دین اسلام پر غلبہ نہیں پا سکے گا۔ یہودی اپنے مذہب پر پکا ہے، اسی طرح عیسائی بھی اپنے مذہب پر پکے ہیں۔ سکھ اور ہندو اپنے مذاہب پر پکے ہیں۔ لیکن جب بات اسلام کی ہوتی ہے تو تمام مذاہب یکجا ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ ان کے مذاہب اور تہذیبیں مختلف ہیں۔ دو عشرے قبل دنیا کے 40 سے زیادہ ممالک افغانستان پر چڑھ دوڑے تھے۔ اسی طرح انڈونیشیا میں مشرقی تیمور کے عیسائیوں نے مطالبہ کیا کہ ہم اپنی الگ ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ ان کی بات مان لی گئی اور انہیں مشرقی تیمور دے دیاگیا۔ آج اہل کشمیر علی الاعلان کہہ رہے ہیں کہ ہم نے پاکستان کے ساتھ رہنا ہے، لیکن کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ اسی طرح فلسطینیوں کی بات بھی اس لیے نہیں مانی جاتی، کیوں کہ وہ مسلمان ہیں۔

بدقسمتی سے کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ نے حل کیا اور نہ وہ حل کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو کشمیریوں نے پاکستان کے ساتھ رہنے کی خواہش ظاہر کی۔ مگر ہندوئوں نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر کے اسے متنازع علاقہ بنادیا۔ کشمیری طویل عرصے سے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ کبھی سکھوں نے کشمیر کا علاقہ انگریزوں سے خرید کر کشمیریوں کو غلام بنایا، حالانکہ کشمیر میں 85 فیصد مسلمان آباد ہیں۔ آج اگر دیکھیں تو کشمیر کی بڑی بڑی عمارتوں پر پاکستان کے جھنڈے لہرا رہے ہیں۔ مگر دوسری جانب بھارت کی ریاستی دہشت گردی دیکھیں تو بچوں اور خواتین کو پیلٹ گنوں سے اندھا کیا جا رہا ہے۔ کشمیریوں کی شاندار تاریخ رہی ہے، جب تحریک کے دوران ایک کشمیری اذان دینے لگا تو اسے شہید کر دیا گیا، جہاں تک اس نے اذان چھوڑی تھی وہاں سے دوسرا مسلمان اذان دینے لگا، اسے بھی شہید کر دیا گیا، حتیٰ کہ 22 مسلمانوں نے ایک اذان مکمل کی اور شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے۔

کشمیر سے متعلق بانی پاکستان نے کہا تھا کہ یہ ہماری شہ رگ ہے۔ مگر آج ہم اور ہمارے حکمران صرف زبانی کلامی کشمیریوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ نہتے کشمیریوں کے ہاتھوں میں انڈین فورسز کے مقابلے کے لیے صرف پتھر ہیں۔ ان بد ترین حالات میں ایک عام کشمیری نوجوان کیا سوچ سکتا ہے؟ کیا وہ ہمیشہ عالمی برادری کے کردار کا منتظر رہے گا؟ بوڑھا کشمیری رہنما سید علی گیلانی، آپا آسیہ اندرابی دعائیں مانگتے ہیں کہ یا اللہ ہمیں پاکستان سے کوئی محمد بن قاسم عطا کر۔ وہ انڈین میڈیا میں علی الاعلان کہتے ہیں کہ جنہیں تم دہشت گرد کہتے ہو وہ ہمارے ہیرو ہیں۔ ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے۔ دوسری جانب بھارت کشمیریوں سے کہتا ہے کہ پاکستان کا نام لینا چھوڑ دو، ہم تمہارا سیب مہنگے داموں فروخت کروائیں گے۔ مگر کشمیریوں کے نعرے ابتداء سے یہ ہیں، تیری منڈی میری منڈی راولپنڈی راولپنڈی۔

ستر سال سے سلگتے کشمیر میں انسانیت سسک رہی ہے۔ ایک لاکھ سے زائد مظلوم کشمیریوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔ بچوں اور خواتین کو بھی بھارتی درندگی کا سامنا ہے۔ کشمیری نوجوانوں سے جیلیں بھر چکی ہیں۔ ریاست جموں کشمیر کے عوام گزشتہ ستر سال سے برسر پیکار ہیں، لیکن انہیں خود ارادیت کا مسلمہ حق دینے کی بجائے مظالم کے پہاڑ توڑ ے جارہے ہیں۔ اس ظلم و جبر کے باوجود کشمیریوں نے حق خود اختیاری کے حصول کا علم ہمیشہ سربلند رکھا ہے اور آزادی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھی ہے۔ کشمیری ابتداء سے بھارت کے قومی دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناکر عالمی برادری کو باور کروا رہے ہیں کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضہ کر رکھاہے، جس کا قطعی کوئی اخلاقی، قانونی و آئینی جواز نہیں ہے۔

آج دنیا جان چکی ہے کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ کشمیری عوام ایک عرصے سے اپنے حقوق کے لیے بھارت کی دہشت گردی اور جارحیت کے آگے ڈٹے ہوئے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت کی موجودہ حکومت کے دور میں بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر کیے جانے والے مظالم میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ کشمیریوں کی تذلیل کے لیے کالے قوانین کا سہارا لیا جا رہا ہے اور انسانیت سوز جارحانہ رویہ اپناکر کشمیری مسلمانوں پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑے جا رہے۔ ایسے مظالم روا رکھے جا رہے ہیں کہ جن کے تصور سے ہی روح کانپ اٹھتی ہے۔ اس کی ایک بدترین مثال پیلٹ گن کا استعمال ہے، جس سے 7000 سے زائد کشمیری بری طرح زخمی ہوئے اور بینائی سے محروم ہو گئے۔

اس بات سے انکار نہیں کہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف واضح ہے، لیکن مظالم کی روک تھام کے لیے مضبوط کردار کی اشد ضرورت ہے۔ ہماری حکومت کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے ہر انٹرنیشنل فورم پر اپنا مؤقف پیش کرے اور انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور بھارتی جارحیت کے خلاف ایسا عالمی دبائو تخلیق کرے جس سے بھارت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے۔ ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ یوم یکجہتی کشمیر منانے کا مقصد آزادی کی جدوجہد میں جہاں کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا ہے، وہاں دوسری طرف عالمی برادری کی توجہ بھی مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کی طرف دلانی ہے۔ آج کشمیری حق خودارادیت کے لیے اقوام عالم کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کی موجودہ حکومت گزشتہ حکومتوں کے راستے پر چل کر محض زبانی جمع خرچ کے بجائے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے عملی جدوجہد کرے۔

٭…٭…٭