بھارت کا جارحانہ رویہ اور پاکستان کا کردار

 

مفتی عبداللطیف

مدیر جامعۃ الدراسات الاسلامیہ، کراچی

 

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اے ایمان والو! صبر کرو اور مقابلے میں جمے رہو اور مورچوں میں ڈٹے رہو اور اللہ سے تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم کامیاب ہو جائو۔ اس آیت کریمہ میں اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو حالت جنگ کے آداب بتلائے ہیں۔ اسلام نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ دشمن سے لڑائی کی تمنا نہ کرو، اللہ سے عافیت مانگو ۔ اگر دشمن سے مڈبھیڑ ہو جائے، لڑائی شروع ہو جائے تو پھر ڈٹ جانا اور ثابت قدم رہنا۔

پاکستان نے گزشتہ برسوں میں نہایت سخت حالات کا سامنا کیا۔ ایک طرف پڑوسی ملک افغانستان میں دنیا کے چالیس ممالک اکھٹے تھے، دوسری جانب مشرقی باردڑ پر تنائو کی کیفیت رہی۔ انڈیا نے پاکستان میں بھی تخریب کاری کو ہوا دی۔ بلوچستان کو نشانہ بنایا۔ ایران کی طرف سے بھی شرارتیں ہوتی رہیں۔ مسلمان کبھی یہ نہیں چاہتے کہ لڑائی کریں، لیکن جب کبھی اس طرح کا موقع بن جائے تو ڈٹ جانا، قربانیاں پیش کرنا اور شہادتیں پیش کرنا یہ ہماری تاریخ رہی ہے اور کتاب و سنت کی رہنمائی بھی یہی ہے۔ آج ہندوستان کے دانشور میڈیا پر بیٹھ کر کہتے ہیں کہ پاکستان سے لڑائی نہ کرنا، کیوں کہ وہ موت سے پیار کرتے ہیں اور تم زندگی سے پیار کرتے ہو۔ وہ مر کر اللہ کی جنتوں کے طلب گار ہیں۔ وہ اگر دنیا میں لڑائی جیت جائیں تو بہادر اور غازی کہتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں اور مر جائیں تو شہادت کا رتبہ پا کر اللہ کی جنتوں کے مہمان بننے کو تیار ہیں۔ جو شہادت کو اپنی حقیقی زندگی سمجھتے ہیں، ان سے مقابلہ کیسے ہوسکتا ہے؟ افواج کے ساتھ، توپوں اور گولوں سے جنگ نہیں جیتی جاتی۔ مسلمانوں کی جنگ ایمانی قوت کے بل بوتے پر ہوتی ہے۔ ہم غازی بننے کے بھی شوقین ہیں اور شہادت پانے کے بھی، تو پھر کمزوری کیسی؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے ایمان والو! جب تمہاری مڈبھیڑ ہو جائے تو دشمن کو اس قدر مارو کہ ان کے پچھلے بھی ان کو یاد رکھیں۔ ان کو نصیحت دینے کا طریقہ ہی یہ ہے کہ انہیں مارو۔

کچھ عرصہ بعد آپ پڑھیں گے کہ کشمیر میں بھارت کے دو طیارے نہیں گرے اور بھی بہت کچھ گرا ہے، جنگ ایک دھوکے کا نام ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ویسے ہی نہیں کہہ رہا کہ بھارتی طیاروں کی پاکستان میں دراندازی ہمارا ٹریلر تھا، ابھی اور بھی کچھ کرنا باقی ہے۔ ذرا غور کریں وہ کیوں چیخیں مار رہا ہے؟ دراصل پیچھے ایک داستان ہے۔ ان کے دانشور دہائیاںدے رہے ہیں کہ پاکستان سے جنگ نہ کرنا۔ آپ دیکھ لیں کہ سب سیاسی و دینی جماعتیں اپنا الگ الگ ایجنڈا رکھتی ہیں، آپس میں سیاسی اختلافات رکھتی ہیں، مگر بھارت سے جنگ کے معاملے میں یک آواز ہوگئیں۔ یہاں ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے، پاکستان نے گرفتار بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو رہا کرکے سفارتی محاذ پر بھارت کو رسوا کیا۔ وہ جنگ کی باتیں کر رہا ہے اور ہم امن کی۔ لیکن کچھ لوگ گندی مکھی کی طرح ہوتے ہیں، جو سارا صاف جسم چھوڑ کر زخم والے حصے پر بیٹھتی ہے۔ ان لوگوں کو پائلٹ کے چھوڑنے پر اعتراض ہے۔ جنگی قیدی کے بارے میں اسلام کی تعلیمات یہ ہیں کہ چاہے تو اس پر احسان کرو یا فدیہ لو، دونوں درست ہے۔

ان غیر معمولی حالات میں ہماری یہ ذمے داری بنتی ہے کہ لوگوں میں شعور پیدا کریں، کوئی کمزوری والی بات نہ کرے، کوئی منفی بات نہ کرے، یہ مسلمانوں کی خصوصیت ہے۔ اللہ فرماتا ہے: کوئی منفی خبر نشر کرنا منافق کی علامت ہے۔ حکومت کے ساتھ کھڑے ہونا اور اپنی افواج کا حوصلہ بڑھانا چاہئیں نہ کہ بزدلی دکھائے اور عوام کا مورال گرائے۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے غزوہ خندق کے موقع پر دیکھا کہ جب مسلمان مصروف جنگ تھے تو ایک یہودی مسلمانوں کے خیموں کے دائیں بائیں چکر لگا رہا تھا، جاسوسی کر رہا تھا، تو حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے ڈنڈے سے مار مار کر اس کو قتل کر دیا۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ مسلمانوں پر جب اس طرح کے حالات ہوں تو مسلمانوں کو اپنے گرد وپیش پر نظر رکھنی چاہئے اور حکومت کا ساتھ دینا چاہئے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو آنکھیں ایسی ہیں جو جہنم کی آگ سے محفوظ رہیں گی۔ ایک وہ جو اللہ کے ڈر سے بہہ پڑے اور دوسری وہ جو سرحدوں پر پہرہ دے۔ ان دو آنکھوں پر جہنم کی آگ کو حرام کر دیا گیا۔

ہمیں یہ یقین ہے کہ بھارت پاکستان سے لڑ نہیں سکتا، اگرچہ ہم قوت و تعداد میں ان سے کم ہیں، کیوں کہ ہم ایمانی جذبے سے سرشار ہیں اور آخرت میں بھی سرخرو ہوں گے، ان شاء اللہ۔ ایک ہندوستانی فوجی کا بیان تھا کہ ہم بیس ہزار تنخواہ لے کر پاکستان سے کیوں لڑیں؟ دوسری طرف حال یہ ہے کہ شیخ رشید نے پارلیمنٹ ہائوس میں بیان دیا کہ مسلمانوں پر جہاد فرض ہے۔ اسرائیل میں لڑکے یا لڑکی کو اس وقت تک میٹرک کی سند نہیں دی جاتی، جب تک وہ دفاعی ٹریننگ نہ کر لے۔ مگر آج ہمارے نوجوانوں کو اسلحے کی سمجھ نہیں۔ ذرا غور کریں کہ یہودیوں کے لیے اسلحے کی ٹریننگ جائز اور مسلمان کے لیے ممنوع، ایسا کیوں ہے؟ اللہ تعالیٰ تو کُن کہہ کر بھی مسلمانوں کے دشمن کو تباہ و برباد کر سکتا ہے، مگر وہ تمہارے ہاتھوں سے ان کی بربادی چاہتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں ان حالات میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے، بزدلی نہیں دکھانی چاہیے۔ افواج کی کوتاہیاں بیان کرنے کی بجائے ان کا حوصلہ بڑھانا چاہیے۔ کوئی بات کمزوری والی بھی دیکھیں تو بددلی نہیں پھیلانی چاہیے، یہ قرآن کی تعلیم ہے۔ ہم اگر بچ گئے تو غازی بنیں گے اور اگر مارے گئے تو رب کی جنتیں ملیں گی۔ درجات کی بلندی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ملک پاکستان کی اور اہل اسلام کی حفاظت فرمائے، آمین۔

٭…٭…٭