آپ ﷺ کی زندگی کے آخری ایام

تاریخ شاہد ہے کہ ہرآنے والے نے جانا ہے، بقا صرف رب تعالی کی ذات کو ہے ، ہر حادثہ ایک پیغام دیتاہے ، اس دنیا میں اولیا ، اتقیاء ، اور نیک و صلحا آئے اور چلے گئے ، ہر ایک نے اپنی اس مختصر حیات میں ابدی اور ہمیشہ کی راحت کا انتظام کیا مگر وہ لوگ جنہوں نے اپنی نادانی کی وجہ سے اپنی آخرت کو بھلادیا، ۔

اس دنیامیں انبیاء اور رسل بھی آئے اپنی ذمہ داری پوری کرکے چلے گئے ، اسی محل کی آخری اینٹ امام الانبیاء بھی تشریف لائے ، آپ کی آمد کے بارے میں گرچہ اختلاف ہے کہ ۱۲ ربیع الاول کو آمد ہوئی یا۹ کو جبکہ شیخ عبدالقادرجیلانی رحمہ اللہ کے ایک قول کے مطابق تو رمضان المبارک میں آمد ہوئی۔ البتہ اس اندوہ اور غم ناک واقعہ پر سبھی متفق ہیں کہ آپ کی رحلت ماہ ربیع الاول کی ۱۲تاریخ کو ہوئی۔

آپ ﷺ کی زندگی کے آخری ایام کی ایک جھلک آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

٭ربیع الاول   ۱۱ھ  ؁ آپ  ﷺ کی زندگی کے آخری چند دن:ایک روز آپ  ﷺ نے فرمایا کہ مجھ پر سات مختلف کنوؤں کے مشکیزے بہاؤ تاکہ میں لوگوں کے پاس جاکر وصیت کرسکوں۔ جب آپ  ﷺ نے کچھ تخفیف محسوس کی تو مسجد تشریف لے گئے ۔سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی ۔ منبر پر فروکش ہوئے۔ بیٹھ کر خطبہ دیا۔  صحابہ کرام گرداگر دجمع تھے۔ فرمایا’’یہودونصاری پر اللہ کی لعنت ۔ کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنایا‘‘۔پھر آپ  ﷺ نے اپنے آپ کو قصاص کیلئے پیش کیااور فرمایا’’میں نے کسی کی پیٹھ پر کوڑا مارا ہو تو میری پیٹھ حاضر ہے ۔ وہ بدلہ لے لے ، اور کسی کی بے آبروئی کی ہو تو میری آبرو حاضر ہے ، بدلہ لے لے ‘‘۔

٭آپ  ﷺ  نے فرمایا’’ایک بندے کو اللہ تعالی نے اختیار دیاہے کہ یاتو دنیاکی چمک دمک اور زیب وزینت میں سے جوچاہے اللہ اسے دے دے ۔ یا اللہ تعالے کے پاس جوکچھ ہے اسے اختیار کرلے ۔ تو اس بندے نے اللہ کے پاس والی چیز کواختیار کرلیا۔‘‘یہ سن کر حضرت ابو بکر رونے لگے ۔ کہ وقت آپ  ﷺ  سے جدائی کا قریب آن پہنچاہے۔

 ٭آپ  ﷺ کی زندگی کے آخری روز آپ  ﷺنے اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور ان سے کچھ سرگوشی کی وہ رونے لگیں ، آپ نے انہیں پھر بلایا اور کچھ سرگوشی کی تو وہ ہنسنے لگیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ بعد میںہمارے دریافت کرنے پر انہوں نے بتایاکہ (پہلی بار) نبی کریم  ﷺ نے مجھ سے سرگوشی کرتے ہوئے بتایاکہ آپ  ﷺ اسی مرض میں وفات پاجائیں گے ۔ اس غم میں میں رودی ۔ (بحوالہ بخاری شریف جلد۲ /۶۳۸)

٭یہی ربیع الاول کامہینہ تھا کہ آپ  ﷺ شدید کرب سے دوچار تھے اسے دیکھ کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بے ساختہ پکاراٹھیں ۔ واکَربَ اَبَاہ۔ ہائے اباجان کی تکلیف جس کے جواب میں آپ  ﷺ نے فرمایا ا’’آج کے بعد تمہارے ابا پر کوئی تکلیف نہیں‘‘(بحوالہ صحیح بخاری۲/۶۴۱)

 ٭آپ  ﷺ کی تاریخ وفات کے بارے میں اختلاف  پایاگیاہے  بخاری شریف کی شرح عمدۃ القاری کے صفحہ نمبر ۹۹ جلد نمبر ۱۶ میں کئی اقوال ہیںمثلا:۱۲، ،۱۳،۱۴،۱۵ربیع الاول میں وفات ہوئی ،البدایۃ والنہایہ ، طبقات ابن سعد ، سیرت طیبہ ، اورسیرت محمدیہ میں کئی اقوال ہیںمثلا :ربیع الاول کے شروع میں ، ، ’’ صفر کے آخری دو دن سے آپ کی بیماری شروع ہوئی اور۱۲ربیع الاول کوآپ فوت ہوئے‘‘۔اور اسی کوجمہورسیرت نگاروںنے جیسے محمد بن سعد اور امام واقدی وغیرہ نے درست کہاہے ،  ممتاز سیرت نگار مولانا صفی الرحمن ؒمبارکپوری (جنہیں سیر ت النبی  ﷺ کے موضوع پر مثالی کتاب لکھنے پروالی حرمین کی طرف سے نوبل انعام ملا) نے اپنی کتاب الرحیق المختوم میں آپ  ﷺ کی تاریخ وفات ۱۲ربیع الاول نقل کی ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جس دن رسول للہ  ﷺہجرت کرکے ہمارے ہاں (مدینہ میں)تشریف لائے تھے اس سے بہتر اورتابناک دن میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ اور جس دن رسول اللہ  ﷺ نے وفات پائی اس سے زیادہ قبیح اورتاریک دن بھی میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ (بحوالہ سنن دارمی ، مشکواۃ شریف ۲/۵۴۷)

٭بوقت وفات آپ  ﷺ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر ٹیک لگائے ہوئے تھے ، آپ  ﷺ کو حضرت علی ،حضرت عباس ، اور ان کے دوبیٹے فضل اور قثم نے غسل دیا، آپ  ﷺ کے آزاد کردہ غلام شقران ، حضرت اسامہ بن زید اور اوس بن خولی رضی اللہ عنہم آپ کی کروٹ بدلنے والے تھے ۔حضرت اوس آپ  ﷺ کو اپنے سینے سے ٹیک لگا ئے ہوئے تھے ۔ اسکے بعد آپ  ﷺ کو تین سفید یمنی چادروں میں کفنایاگیا۔تیسرے دن آپ  ﷺ جس جگہ فوت ہوئے (عائشہ رضی اللہ عنہاکے حجرہ ) میں تدفین ہوئی ۔

٭اسکے بعد باری باری دس دس صحابہ کرام نے حجرہ شریف میں داخل ہوکرنماز جنازہ پڑھی ، کوئی امام نہ تھا۔

یہ ان تاریخی واقعات میں سے چندتھے جو آپ  ﷺ کی زندگی کے ماہ ربیع الاول میں پیش آئے ۔