نماز عید کے لیئے مساجد کے بجائےکھلے میدان کا انتخاب نبی کریم ﷺ کی سنت ہے ۔

۔خواتین بھی شریک ہوں

البتہ جنہیں نماز نہ پڑھنی ہو وہ نماز والی جگہ سے دور مگر دعا میں شریک رہیں، 

 

بحمدللہ آج کل خواتین کی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے عیدگاہ میں مذکورہ تمام سہولیات دی جاتی ہیں۔

قربانی کرنے والے کو چاہئے کہ جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرے۔

مرد کی طرح عورت بھی بوقت ضرورت بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ کرجانور ذبح کرسکتی ہے اور اس کا ذبیحہ مکروہ نہیں ۔

اونٹ کو نحر جبکہ گائے، بکرا، اور چھترا وغیرہ کو ذبح کیاجائے۔

اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتاہے۔(مسلم ۳۶۰، ترمذی ۸۱، ابی داود ۱۸۴، ابن ماجہ ۴۸۴)

نماز سے قبل ذبح کیاگیا جانور صدقہ کہلائے گا،

 مسنون عمل یہی ہے کہ نماز عید کے بعد اپنے جانور کی قربانی کریں اور اسی کا حکم ہے،

قربانی کے جانور کا گوشت خود کھائی اور دوسروں کو بھی کھلائیں یہ بھی نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔

نماز عید اداکرکے د قربانی سے پہلے اور بعد دونوں صورتوں میں ناخن ،بال کاٹے جاسکتے ہیں۔

میت کی طرف سے قربانی کرنا ثابت نہیں، البتہ اگر وصیت کی گئی ہوتو اس پر ورثاء کو عمل کرناچاہئے۔

اس انتظارمیں عقیقہ لیٹ کرنا کہ قربانی کے جانور میں حصہ شامل کرلیںگے درست نہیں ۔ نیز نص کے بھی خلاف ہے۔

عقیقہ کے لئے نبی کریم ﷺ سے مذکرکی طرف سے 2بکرے/مینڈھے اور مؤنث کی طرف سے 1کا ثبوت ملتا ہے۔

قصاب کو قربانی کے جانور میں سے (گوشت یا کھال کی صورت میں)اجرت دینا درست نہیں ۔

قربانی کے جانور کی کھال اپنے مصرف میں لائی جاسکتی ہے، ایساممکن نہ ہو تو  دینی و فلاحی اداروں کو دینی چاہئے۔