تعدد قربانی

 فَيَذْبَحُ  أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ مِمَّنْ شَهِدَ بِالتَّوْحِيدِ، وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ، وَذَبَحَ الْآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَآلِ مُحَمَّدٍ

 دوبڑے بڑے ،موٹے تازے، سینگوں والے،چتکبرے اور خصی مینڈھے خریدتے۔ ایک اپنی امت کی طرف سے ذبح فرماتے ، یعنی امت کے ہر اس فرد کی طرف سے

 جو اللہ کی توحید کی گواہی دیتا ہو اور نبی ﷺ کو پیغام پہنچانے (اوررسول ہونے) کی گواہی دیتاہو۔ اور دوسرا محمدﷺ کی طرف سے، اور محمدﷺ کی آل کی طرف سے ذبح کرتے۔

(مسنداحمد،ابن ماجۃ ابواب الاضاحی، 3122صححہ الالبانی)

ایک آدمی کتنے جانور قربان کرسکتاہے:

  رسول اللہ ﷺ نے ’’نَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ سَبْعَ بُدْنٍ قِيَامًا وَضَحَّى بِالْمَدِينَةِ كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ‘‘

سات اونٹنیاں اپنے ہاتھ سے کھڑی حالت میں نحرکیں۔ اور مدینہ منورہ میں آپ نے دو مینڈھے قربانی کیئے جو سینگوں والے اور چتکبرے تھے۔

(صحیح البخاری کتاب الحج1626، ابوداؤد کتاب الضحایا2793)

ایک آدمی حسب توفیق زیادہ سے زیادہ جانور قربان کرسکتاہے اور کم از کم حسب توفیق اپنے گھرانے کی طرف سے ایک بکرا و چھترا کیاجاسکتاہے۔