یوم عرفہ

عرفہ کے دن روزہ رکھنے کی وجہ سے میں اللہ تعالی سے امید رکھتاہوںکہ وہ اس سے پہلے سال بھر کے اور اس کے بعد کے سال بھر کے گناہ معاف فرمادے گا۔

{أخرجه : مسلم 3/167 (1162) (197) }

ایک دوسری روایت میں ہے حضرت قتادہ بن نعمان کہتے ہیں کہ میںنے رسول اللہ ﷺ سے سنا:

جس شخص نے عرفہ کے دن روزہ رکھا، اس کے ایک سال آگے اورایک سال پیچھے کے گناہ معاف ہوجائیں گے۔

ایک روایت میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ عَبْدًا أَوْ أَمَةً مِنْ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ وَإِنَّهُ لَيَدْنُو ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمْ الْمَلَائِكَةَ وَيَقُولُ مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ‘‘

اللہ عزوجل عرفہ کے دن سے زیادہ کسی اوردن بندوں کو آگ سے آزاد نہیں کرتا۔اللہ عزوجل (بندوں سے)قریب ہوتاہے ،

 پھر اورقریب ہوتاہے، پھر ان کی وجہ سے فرشتوں کے سامنے اظہارفخرفرماتاہے، اور کہتاہے یہ لوگ کیاچاہتے ہیں

(سنن ابن ماجۃ ابواب المناسک ،باب الدعاء بعرفۃ3014،مسلم 1348)

یوم عرفہ سے کون سا دن مراد ہے؟

یوم عرفہ کے بارے میں ایک روایت ہے :’’عَرَفَةُ يَوْمَ يُعَرِّفُ الإِمَامُ‘‘جس دن امام عرفہ میں ٹھہرے وہ یوم عرفہ ہے۔ 

(سنن الکبری للبیہقی کتاب الحج باب خَطَإِ النَّاسِ يَوْمَ عَرَفَةَ.، معجم الاوسط،شعب الایمان)

دوسری  روایت میں ہے :  ’’وعرفة يوم تُعَرِّفون‘‘عرفہ وہ دن ہے جس دن تم عرفہ میں(قیام کررہے) ہوتے ہو۔

(صحيح وضعيف الجامع الصغير7673صححہ الالبانی صحیح الجامع4224)

ابن ماجہ میں مروی مذکورہ بالاحدیث 3014 بھی اس بات پردال ہے کہ عرفہ اپنے اپنے ملک کا نہیں بلکہ حجاج کا معتبرہوگا۔

یہاں ایک بات کی وضاحت کردینا نہایت ضروری ہے،

عبادات کاتعلق کبھی شمسی ، کبھی قمری ، اور بعض اوقات جگہ کے اعتبار سے بھی ہوتاہے۔

پہلی مثال شمسی : سورج کے طلوع ہونے سے قبل نماز فجر، زوال کے بعد ظہراور غروب کے بعد مغرب، سحری و افطاری وغیرہ، ان عبادات کا تعلق سورج سے ہے۔

دوسری مثال قمری:رمضان المبارک کے روزے ، حج کی ادائیگی ، اور ایام عاشورہ، عید، یعنی آپ نے روزے کب شروع کرنے ہیں، منی، عرفات ، مزدلفہ ،جمرہ ، حلق ، وغیرہ کب کرنا ہے۔

تیسری مثال جگہ کا اعتبار: مسجدنبوی، مسجدحرام ، مسجدقبااورمسجداقصی وغیرہ کی اہمیت و فضلیت اور وہاں اداکی گئی نمازوں کی فضلیت ہے۔

اسی طرح احرام کے لئے مواقیت کی اہمیت یا اونٹوں کے باڑے میں نمازاداکرنے سے منع فرماناوغیرہ۔

ان امثلہ سے یہ معلوم ہوتاہے کہ عبادات میں مختلف امورکو مدنظررکھا گیاہے۔ اسی طرح یوم عرفہ کا معاملہ ہے ، اسے پاکستان ، ہندوستان کا معاملہ نہیںسمجھنا چاہئے بلکہ اس کا تعلق اس دن سے ہے جب حجاج کرام میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں ، ان کے لئے اس دن روزہ رکھنا منع ہے۔

(ابن ماجہ 1732حدیث حسن)۔

البتہ غیرحجاج کے لئے اس روز کے روزے کی مذکورہ فضیلت ہے۔ اس کا تعلق ملکوں کےساتھ یااپنے اپنے 9ذوالحجہ سے جوڑنا سعی لاحاصل ہے۔

 جن احادیث میں 9تاریخ کا ذکر ہے تو وہ روایات یوم عرفہ کی مخالف نہیں ہیں ، کیونکہ یقینا جس دن حجاج میدان عرفہ میں جمع ہوتے ہیں وہاں وہ ذوالحجہ کی9تاریخ ہی ہوتی ہے۔