ذوالحجہ کے ابتدائی 10 دن، اہمیت و فضیلت اور قربانی کے مسائل

 

مفسرین نے قرآن مجید میں ’’ایام معلومات ‘‘سے ابتدائی عشرہ ذوالحجہ مراد لیا ہے۔

جبکہ ایام معدودات سے ایام تشریق لیئے ہیں :

وَالْأَيَّامُ الْمَعْدُودَاتُ أَيَّامُ التَّشْرِيقِ

ان میں کثرت سے ذکرالہی کرنا مسنون و مطلوب ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:  فَأَكْثِرُوا فِيهِنَّ مِنَ التَّهْلِيلِ ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّحْمِيدِ

ان دنوں میں کثرت سے تہلیل ، تکبیراور تحمید کیاکرو۔

(مسنداحمد،بيهقي في "الشعب" (3750))

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ کلمات پڑھتے :اَللَّهُ اَكْبَرُ اَللَّهُ اَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَاَللَّهُ اَكْبَرُ اَللَّهُ اَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ(أخرجه ابن أبي شيبة  إسناده صحيح)

كَانَ ابْنُ عُمَرَ وَأَبُو هُرَيْرَةَ يَخْرُجَانِ إِلَى السُّوقِ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ يُكَبِّرَانِ وَيُكَبِّرُ النَّاسُ بِتَكْبِيرِهِمَا

حضرت عبداللہ بن عمر اور ابوہریرہ کا عمل یہ تھا کہ وہ ان ایام میں بازارجاتے اور بآواز بلندتکبیرات پڑھتے،لوگ بھی انہیں دیکھ کر ایساہی کرتے 

(بخاری کتاب العیدین باب فضل العمل في أيام التشريق)

كان سعيد بن جبير إذا دخل أيام العشر اجتهد اجتهادا شديدا حتى ما يكاد يقدر عليه 

حضرت سعید بن جبیر عشرہ ذوالحجہ میں اعمال صالحہ میں خوب لگے رہتے ، یہاں تک کہ اس پر قادرہونا دشوارہوجاتا۔

(سنن دارمی کتاب الصوم باب في فضل العمل في العشر1781،شعب الایمان للبیہقی کتاب الصوم۔قال حسين سليم أسد : إسناده صحيح )

سلف صالحین نے ایام عشرذوالحجہ کو سال کے افضل ترین ایام قرار دیاہے، چونکہ ان میں تسبیحات ،تحمیدات ،تکبیرات و تہلیلات کے ساتھ ساتھ حج جیسی عظیم

 عبادت بھی ہے،بعض نے اسے رمضان المبارک کے آخری عشرے پر بھی مقدم کیاگیاہے، چنانچہ صرف عرفہ کا روزہ ہی ایک گزشتہ اورایک آئندہ سال کا کفارہ ہے۔ 

جبکہ بعض نےلیلۃ القدرکی وجہ سے رمضان المبارک کو افضل قرار دیا ہے، اکثرعلمائے سلف نے رمضان کی راتوں اور ذوالحجہ کے ایام کو فضلیت دی ہے۔ اور یہی درست  تطبیق ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:  أَفْضَلُ الأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ يَسْتَقِرُّ فِيهِ النَّاسُ

 اللہ تبارک وتعالی کے ہاں سب سے بڑھ کر عظمت والادن یوم النحر (دس ذوالحجہ)ہے،اور اس کے بعد یوم القر(11ذوالحجہ )ہے ۔

(سنن الکبری للبیہقی ، صحیح ابن حبان کتاب الصلاۃ باب العیدین)

 اس سے معلوم ہوتاہے کہ بعد کے ایام کی نسبت پہلے دن کی قربانی،ذکرودعاء اور انفاق فی سبیل اللہ وغیرہ سب سے افضل ہے۔ 

ایک دوسری روایت میں ہے  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ - يَعْنِي أَيَّامَ الْعَشْرِ

 کوئی دن ایسے نہیں جن میں کیاہوا عمل اللہ کو ان دنوں (میں کیئے ہوئے عمل )سے زیادہ محبوب ہو۔یعنی ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں۔

صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ ! اللہ کی راہ میں جہاد بھی نہیں؟ 

فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد بھی نہیں! مگر جو شخص اپنی جان اور اپنا مال لے کر جہاد میں نکلا ، پھر کچھ بھی لے کر واپس نہ آیا۔

(أخرجه البخاري (969) ، وابن خزيمة (2865) ابوداؤد کتاب الصوم باب فی الصوم العشر، ترمذی کتاب الصوم باب ما جاء في العمل في أيام العشر)

نوٹ: عام دنوں میں اپنے مال کے ساتھ نکلنے والا مجاہد، شہادت کے درجات کو پالے تو ان ایام عشرہ میں نیکیوں میں لگاہوامسلمان اس درجہ کو پہنچ سکتاہے ،

البتہ: انہی ایام عشر میںایک آدمی ان عبادات میں مگن جبکہ ایک مجاہد دین کی سربلندی کے لئے کفارکے خلاف صف آراء ہوتو پھر اس خوش بخت کی قسمت کے کیا کہنے ۔

رسول اللہ ﷺ ان ایام میں تسبیح ، تحمید، تکبیر،تہلیل اور جہاد وغیرہ میں تو مصروف رہتے ،آپ ﷺ روزوں کا بھی خاص اہتمام فرماتے ۔

رسول اللہ ﷺ ذوالحجہ کے ابتدائی 9روزے ،یوم عاشور ،ہرمہینے کے 3اور ہرجمعرات و پیر کے روز روزہ رکھتے تھے۔(ابوداؤد 2437)

عرفہ کے دن کا روزہ: حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صَومِ يَوْمِ عَرَفَةَ ، قَالَ : يُكَفِّرُ السَّنَةَ المَاضِيَةَ وَالبَاقِيَةَ ۔

عرفہ کے دن روزہ رکھنے کی وجہ سے میں اللہ تعالی سے امید رکھتاہوںکہ وہ اس سے پہلے سال بھر کے اور اس کے بعد کے سال بھر کے گناہ معاف فرمادے گا۔

{أخرجه : مسلم 3/167 (1162) (197) }

 

ایک دوسری روایت میں ہے حضرت قتادہ بن نعمان کہتے ہیں کہ میںنے رسول اللہ ﷺ سے سنا:

جس شخص نے عرفہ کے دن روزہ رکھا، اس کے ایک سال آگے اورایک سال پیچھے کے گناہ معاف ہوجائیں گے۔

ایک روایت میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ عَبْدًا أَوْ أَمَةً مِنْ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ وَإِنَّهُ لَيَدْنُو ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمْ الْمَلَائِكَةَ وَيَقُولُ مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ‘‘

اللہ عزوجل عرفہ کے دن سے زیادہ کسی اوردن بندوں کو آگ سے آزاد نہیں کرتا۔اللہ عزوجل (بندوں سے)قریب ہوتاہے ،

 پھر اورقریب ہوتاہے، پھر ان کی وجہ سے فرشتوں کے سامنے اظہارفخرفرماتاہے، اور کہتاہے یہ لوگ کیاچاہتے ہیں

(سنن ابن ماجۃ ابواب المناسک ،باب الدعاء بعرفۃ3014،مسلم 1348)

یوم عرفہ سے کون سا دن مراد ہے؟یوم عرفہ کے بارے میںایک روایت ہے :’’عَرَفَةُ يَوْمَ يُعَرِّفُ الإِمَامُ‘‘جس دن امام عرفہ میں ٹھہرےوہ یوم عرفہ ہے۔ 

(سنن الکبری للبیہقی کتاب الحج باب خَطَإِ النَّاسِ يَوْمَ عَرَفَةَ.، معجم الاوسط،شعب الایمان)

دوسری  روایت میں ہے :  ’’وعرفة يوم تُعَرِّفون‘‘عرفہ وہ دن ہے جس دن تم عرفہ میں(قیام کررہے) ہوتے ہو۔ (صحيح وضعيف الجامع الصغير7673صححہ الالبانی صحیح الجامع4224)

ابن ماجہ میں مروی مذکورہ بالاحدیث 3014 بھی اس بات پردال ہے کہ عرفہ اپنے اپنے ملک کا نہیں بلکہ حجاج کا معتبرہوگا۔

یہاں ایک بات کی وضاحت کردینا مناسب ہے، عبادات کاتعلق انسان کے ساتھ کبھی شمسی ، کبھی قمری ، اور بعض اوقات جگہ کے اعتبار سے بھی ہوتاہے۔

پہلی مثال شمسی : سورج کے طلوع ہونے سے قبل نماز فجر، زوال کے بعد ظہراور غروب کے بعد مغرب، سحری و افطاری وغیرہ، ان عبادات کا تعلق سورج سے ہے۔

دوسری مثال قمری:رمضان المبارک کے روزے ، حج کی ادائیگی ، اور ایام عاشورہ، عید، یعنی آپ نے روزے کب شروع کرنے ہیں، منی، عرفات ، مزدلفہ ،جمرہ ، حلق ، وغیرہ کب کرنا ہے۔

تیسری مثال جگہ کا اعتبار: مسجدنبوی، مسجدحرام ، مسجدقبااورمسجداقصی وغیرہ کی اہمیت و فضلیت اور وہاں اداکی گئی نمازوں کی فضلیت ہے۔

اسی طرح احرام کے لئے مواقیت کی اہمیت یا اونٹوں کے باڑے میں نمازاداکرنے سے منع فرماناوغیرہ۔

ان امثلہ سے یہ معلوم ہوتاہے کہ عبادات میں مختلف امورکو مدنظررکھا گیاہے۔ اسی طرح یوم عرفہ کا معاملہ ہے ، اسے پاکستان ، ہندوستان کا معاملہ نہیںسمجھنا چاہئے بلکہ اس کا تعلق اس دن سے ہے جب حجاج کرام میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں ، ان کے لئے اس دن روزہ رکھنا منع ہے(ابن ماجہ 1732حدیث حسن)۔

البتہ غیرحجاج کے لئے اس روز کے روزے کی مذکورہ فضیلت ہے۔ اس کا تعلق ملکوں کےساتھ یااپنے اپنے 9ذوالحجہ سے جوڑنا سعی لاحاصل ہے۔

 جن احادیث میں 9تاریخ کا ذکر ہے تو وہ روایات یوم عرفہ کی مخالف نہیں ہیں ، کیونکہ یقینا جس دن حجاج میدان عرفہ میںجمع ہوتے ہیں وہاںوہ ذوالحجہ کی9تاریخ ہی ہوتی ہے۔

یہاں ایک اور اہم مسئلہ بھی واضح کردینا مناسب ہےجسے امام ابوداؤد اپنی کتاب میں حدیث رقم 2419پرلائے ہیں، یوم عرفہ ،یوم النحراورایام تشریق اہل اسلام کے عید کے ایام ہیں، یہ کھانے اور پینے کے دن ہیں۔عرفہ کا دن حجاج کے ساتھ خاص ہے اور یوم النحرو ایام تشریق عام ہیں۔ 

قربانی کرنے والے کے لئے ہدایات:

 رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا:’’ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يُقَلِّمْ أَظْفَارَهُ ، وَلَا يَحْلِقْ شَيْئًا مِنْ شَعْرِهِ فِي الْعَشْرِ الْأُوَلِ مِنْ ذِي الْحِجَّة‘‘

جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھ لواورتم میںسے کوئی شخص قربانی کاارادہ رکھے تو وہ اپنے بال اورناخن نہ کاٹے

(مسلم (1977) ،ترمذی کتاب الاضاحی 1523،نسائی کتاب الضحایا،ابن ماجۃ ،أبو عوانة ، وابن حبان 5897صححہ الالبانی)

قربانی کا جانور کیسا ہو؟صحت مند، خوبصورت اور عیوب سے پاک گائے، بکری، بھیڑاور اونٹ میں سے 2دانت والے جانور کا انتخاب کیاجائے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً ، إِلَّا أَنْ تَعْسُرَ عَلَيْكُمْ، فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ‘‘

صرف دو دانتا جانور ہی ذبح کرو، سوائے اس کے کہ تمہارے لیئے بہت مشکل ہوجائے تو بھیڑکاجذع ذبح کرسکتے ہو۔

(صحیح مسلم کتاب الاضاحی باب سن الأضحية1963، صحیح ابن خزیمہ،ابن حبان في  صحيحه  1048)

’جَذَعَة‘جس جانور کی عمر کا کم از کم ایک سال مکمل ہوچکاہوجذعہ کہلاتاہے، قربانی کے لئے یہ صرف بھیڑ(دنبہ ،چھترا)میں جائز ہے، دیگرجانوروں میں نہیں،

نبی کریم ﷺ نے چندصحابہ کرام کو رخصت فرمائی تو ساتھ میں ارشاد فرمایا:’’تیرے بعد کسی اور کیلئے ایسا کرنا درست نہیں‘‘(صحیح البخاری کتاب الاضاحی 5556)

یہ بھی احتمال ہے کہ شروع میں دونوں طرح کے جانوروں میں جذع جائز ہو اور بعد میں منع کردیاگیا۔واللہ اعلم 

ایسے جانور کی قربانی مت کیجئے:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چارقسم کے جانور قربانی میں جائز نہیں :1کانا،جس کا کاناپن ظاہرہو،2بیمارجس کی بیماری واضح ہو،

3 لنگڑا جس کا لنگڑاپن ظاہرہواور 4انتہائی کمزور کہ اس کی ہڈی میں گودانہ ہو۔

(ابوداؤد کتاب الضحایا2802، ترمذی 1497، نسائی 4374،صححہ الالبانی )

ایک روایت میںسوراخ والےیاچیرے ہوئے کان ٹوٹے ہوئے سینگ والے جانور کی قربانی سے بھی منع کیاہے۔

نمازعید سے قبل جانور ذبح کرنا قربانی نہیں :  

براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ میرے ماموں نے جن کا نام ابوبردہ تھا، نماز سے پہلے ہی قربانی کرڈالی،

 رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا:’’تیری بکری تو گوشت کی بکری ہوئی‘‘اس نے کہا:اے اللہ کے رسول ! میرے پاس گھرکی 

پلی ہوئی ایک جذع بکری ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے ذبح کردو،لیکن تیسرے سوا کسی اور کے لئے درست نہیں ہوگی۔

(بخاری کتاب الاضاحی 5556،مسلم 2800،ابوداؤد 2801، ترمذی 1497، نسائی 4374)

مسنون اعمال :

عید کے دن غسل کرنا، اچھالباس زیب تن کرنا، خوشبولگانا،مردو خواتین کاکھائے پیئے بغیرتکبیرات کہتے ہوئے

 عیدگاہ کی طرف جانا،سورج طلوع ہونے کے بعد حتی الامکان جلد کھلے میدان میں نماز عیداداکرناوغیرہ

نماز کے بعد قربانی کریں:

رسول اللہ ﷺ نےعیدکے دن فرمایا:’’إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِى يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّىَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا‘‘

آج کے دن ہم سب سے پہلے جس چیزکی ابتداکریں گے وہ یہ ہے کہ ہم نماز پڑھیںگے،پھر(قربانی)ذبح کریں گے ۔ جو شخص ایساکرے گا وہ ہماری سنت پر عمل کرے گا۔

(صحیح البخاری کتاب الاضاحی 5225،مسلم 1961، نسائی  )

نمازعیداداکرنے کے بعدمسلمانوں میںتقبل اللہ منا و منکم کہہ کر مبارکباد دینا، نیز مجاہدین کے لئے صدقات و عطیات دینا،عیدگاہ سے واپسی پر راستہ بدل کرجانا،قربانی کرنا ، گوشت خود بھی کھانااور رشتہ داروں ، دوستوں ،فقراء اور مساکین میں بھی تقسیم کرنا ، سب مسنون عمل ہیں۔خوشی کے ان ایام میں عام طور پر فرض نمازوں میں کوتاہی برتی جاتی ہے۔ نمازوں کی پابندی بہر حال ملحوظ رکھیں۔

قربانی کرتے وقت :رسول اللہ ﷺجانورذبح کرتے  وقت ’’يَذْبَحُ وَيُكَبِّرُ وَيُسَمِّى‘‘بسم اللہ و اللہ اکبر پڑھتے۔(بخاری5565،مسلم1966)

ایک قربانی پورے گھرانے کی طرف سے :

رسول اللہ ﷺ جب قربانی کرناچاہتے تو’’اشْتَرَى كَبْشَيْنِ عَظِيمَيْنِ، سَمِينَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ، مَوْجَيَيْنِ ،

 فَيَذْبَحُ  أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ مِمَّنْ شَهِدَ بِالتَّوْحِيدِ، وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ، وَذَبَحَ الْآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَآلِ مُحَمَّدٍ

 دوبڑے بڑے ،موٹے تازے، سینگوں والے،چتکبرے اور خصی مینڈھے خریدتے۔ ایک اپنی امت کی طرف سے ذبح فرماتے ، یعنی امت کے ہر اس فرد کی طرف سے

 جو اللہ کی توحید کی گواہی دیتا ہو اور نبی ﷺ کو پیغام پہنچانے (اوررسول ہونے) کی گواہی دیتاہو۔ اور دوسرا محمدﷺ کی طرف سے، اور محمدﷺ کی آل کی طرف سے ذبح کرتے۔

(مسنداحمد،ابن ماجۃ ابواب الاضاحی، 3122صححہ الالبانی)

ایک آدمی کتنے جانور قربان کرسکتاہے:

  رسول اللہ ﷺ نے ’’نَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ سَبْعَ بُدْنٍ قِيَامًا وَضَحَّى بِالْمَدِينَةِ كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ‘‘

سات اونٹنیاں اپنے ہاتھ سے کھڑی حالت میں نحرکیں۔ اور مدینہ منورہ میں آپ نے دو مینڈھے قربانی کیئے جو سینگوں والے اور چتکبرے تھے۔

(صحیح البخاری کتاب الحج1626، ابوداؤد کتاب الضحایا2793)

ایک آدمی حسب توفیق زیادہ سے زیادہ جانور قربان کرسکتاہے اور کم از کم حسب توفیق اپنے گھرانے کی طرف سے ایک بکرا و چھترا کیاجاسکتاہے۔ 

اونٹ اورگائے میں حج کے موقع پرکتنےحصے ہوسکتے ہیں:  حج وعمرہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’الْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْجَزُورُ عَنْ سَبْعَةٍ‘‘ ب

گائے سات افراد کی طرف سے اور اونٹ بھی سات افراد کی طرف سے ہے۔

حدیبیہ میں اونٹ اور گائے میںسات سات افراد کی طرف سے قربانی کی۔

(ابوداؤد کتاب الضحایا2808،2829مسلم کتاب الحج 1318)

 اونٹ میں قربانی کے موقع پرکتنےحصے ہوسکتے ہیں:  عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفرمیںتھےکہ عیدالاضحی آگئی،

چنانچہ ہم نے دس دس آدمیوں کی طرف سے ایک ایک اونٹ نحر اور سات سات کی طرف سے ایک ایک گائے مشترکہ طورپرذبح کی ۔

ابن ماجه 3131، والترمذي905,1501، وابن خزيمة 2908، وابن حبان 4007، 

تہامہ کے علاقے ذوالحلیفہ کے مقام پر رسول اللہ ﷺ نے ایک اونٹ دس بکریوں کے برابرقراردیا

اور اس کے مطابق مال غنیمت کے جانور تقسیم فرمائے(بخاری کتاب الشرکہ 2507،مسلم 1968)

اونٹ کو نحر کرنے کا طریقہ:

اونٹ کااگلی بائیں ٹانگ کوران کے ساتھ ملاکر گھٹنا باندھ دیںاس کے بعد اسے تین ٹانگوں پر کھڑا کر دیں اوربسم اللہ واللہ اکبر پڑھتے ہوئے کوئی تیز دھار چیز مثلا چھری، نیزہ یا برچھی اس کی گردن کی جڑمیںسینے کی طرف والے گڑھے میںاندرتک داخل کردیں۔ تھوڑی ہی دیر میں اونٹ کا خون بہہ جائے گا اور وہ زمین پر گرجائے گا۔ اس کے بعد اس کی کھال وغیرہ اتار کر گوشت بنا لیا جائے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:قربانی کے اونٹ ہم نے تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کی نشانیاں مقرر کر دی ہیں ان میں تمہارے لئے نفع ہے، انہیں کھڑا کر کے ان پر اللہ تعالیٰ کا نام لو، بایں حالت کہ وہ گھٹنا بندھے کھڑے ہوں، پھر جب ان کے پہلو گر پڑیں تو ان سے کچھ کھاؤ۔" (سورۃ الحج:36)

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام اونٹ کی بائیں ٹانگ باندھ کر اسے نحر کرتے تھے اور وہ اپنی باقی تین ٹانگوں پر کھڑا ہوتا تھا۔

 (سنن ابی داؤد،المناسک:1767)

حضرت عبداللہ بن عمر؆  ایک شخص کے پاس تشریف لائے جس نے ذبح کرنے کے لئے اپنی اونٹنی کو بٹھایاہواتھا۔

 آپ نے فرمایا:اسے کھڑا کرکے باندھ لو، یہی حضرت محمدﷺ کی سنت ہے۔

(صحیح البخاری کتاب الحج باب نحر الابل مقیدۃ 1713)

نوٹ: 

نماز عید کے لیئے مساجد کے بجائےکھلے میدان کا انتخاب کیاجائے۔ 

خواتین بھی شریک ہوں البتہ جنہیں نماز نہ پڑھنی ہو وہ دعا میں تو شریک رہیں مگر نماز والی جگہ سے دور رہیں، 

بحمدللہ آج کل خواتین کی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے عیدگاہ میںمذکورہ تمام سہولیات دی جاتی ہیں۔

قربانی کرنے والے کو چاہئے کہ جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرے۔

مرد کی طرح عورت بھی بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ کرجانور ذبح کرسکتی ہے اور اس کا ذبیحہ مکروہ نہیں ہوتا۔

اونٹ کو نحر جبکہ گائے، بکرا، اور چھترا وغیرہ کو ذبح کیاجائے۔

اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتاہے۔(مسلم ۳۶۰، ترمذی ۸۱، ابی داود ۱۸۴، ابن ماجہ ۴۸۴)

بہترہے کہ نماز عید کے بعد اپنے جانور کی قربانی کر کے اس کا گوشت کھائیں۔

نماز عید اداکرکے د قربانی سے پہلے اور بعد دونوں صورتوں میں ناخن ،بال کاٹے جاسکتے ہیں۔

میت کی طرف سے قربانی کرنا ثابت نہیں، البتہ اگر وصیت کی گئی ہوتو اس پر ورثاء کو عمل کرناچاہئے۔

اس انتظارمیں عقیقہ لیٹ کرنا کہ قربانی کے جانور میں حصہ شامل کرلیںگے درست نہیں ۔ نیز نص کے بھی خلاف ہے۔

عقیقہ کے لئے نبی کریم ﷺ سے مذکرکی طرف سے 2بکرے/مینڈھے اور مؤنث کی طرف سے 1کا ثبوت ملتا ہے۔

قصاب کو قربانی کے جانور میں سے (گوشت یا کھال کی صورت میں)اجرت دینا درست نہیں ۔

قربانی کے جانور کی کھال اپنے مصرف میں لائی جاسکتی ہے، ایساممکن نہ ہو تو دینی و فلاحی اداروں کو دینی چاہئے۔