ربیع الاول سیرت النبی ﷺ کے آئینے میں

سے وابستگی کا ذریعہ بن سکے تاریخی واقعات کی ابتدا ہم آپ  ﷺ کی پیدائش مبارکہ سے کرتے ہیں :

 ٭۹ربیع الاول عام الفیل   ۱    بروز پیربمطابق ۲۰/۲۲اپریل ۵۷۱ ء ؁بعد از صبح صادق آپ  ﷺ مکہ معظمہ میںپیدا ہوئے (بعض سیر نگاروں نے ۱۰، اور بعض نے ۱۲ ربیع الاول بھی نقل کیا ہے لیکن اکثر محققین کے نزدیک ۹ربیع الاول ہی درست ہے )

 ٭اسی ماہ آپ  ﷺ کو رضاعت کی غرض سے حلیمہ سعدیہ اپنی آغوش محبت میں لیکر اپنے گھر پلٹیں ، جب دوسال مکمل ہوئے تو اسی ماہ ربیع الاول میں آپ  ﷺ کی رضاعت مکمل ہوئی اورآپ  ﷺ تقریبا 6سال حلیمہ سعدیہ کے پاس رہے اس دوران حلیمہ وفتا فوقتا آپ  ﷺ کو آپ کے اقرباسے ملاقات کیلئے لے آتی اور لے جاتی۔

٭اسی ماہ جب آپ  ﷺ کی عمر ۸سال ۱۰دن ہوئی تو آپ  ﷺ کے دادا عبدالمطلب ۸۲سال کی عمرمیں وفات پاگئے۔

٭ ۹ربیع الاول  ۱ ۴   ؁ میلادی بمطابق۱۲فروری ۶۱۰ء؁ بروز پیرجب آپ ﷺ کی عمر چالیس سال قمری پر ایک دن اوپر ہوئی توجبریل امین پیغام نبوت لیکر آپ ﷺ کے پاس آئے۔

٭ ربیع الاول  ۴۱    میں سب سے پہلے آپ  ﷺ پر ایمان لانے والوں میںام المومنین سیدہ خدیجۃ الکبر رضی اللہ عنہا، خلیفہ اول حضرت ابوبکر، حضرت عثمان بن عفان ،خلیفہ رابع حضرت علی المرتضی ، حضرت خدیجہ کے غلام زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم شامل تھے۔

٭ایک قول کے مطابق ربیع الاول  کے مہینے میں ہجرت سے ایک سال قبل  ۱۳   نبوی کی ابتداء میں اسراء اور معراج کا واقعہ پیش آیا۔

٭ہجرت کے چوتھے روزیعنی یکم ربیع الاول  ۱ھ   بروز سومواربمطابق ۱۶ستمبر  ۶۲۲ء آپ  ﷺ نے غار ثورسے آگے مدینہ کا سفر عبداللہ بن اریقط اللیثی کی رہنمائی میں کیا جوصحرائی اور بیابانی راستوں کاماہر تھا اور ابھی قریش ہی کے دین پر تھالیکن قابل اطمینان بھی تھا ۔

 ٭ربیع الاول   ۱ھ   دوران ہجرت آپ  ﷺ کا مختلف قبائل پر گزر ہوا اس دوران(صرف۷دنوں میں) ۷۰ اشخاص مسلمان ہوئے۔

٭ ۸ربیع الاول   ۱۴  نبوت  کے آغازمیں بروز پیر ۲۳ستمبر ۶۲۲ء آپ  ﷺ  قبا پہنچے ۔ اہل یثرب نے جب آپ کی آمد کا سنا تو روزانہ مدینہ سے باہر نکل کر آپ  ﷺ کا راستہ دیکھتے ۔اسی قبامیں ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ  ﷺ کے بعد ہجرت کرکے آپ  سے آملے۔

٭۱۲ربیع الاول   ۱ھ   بروز جمعہ بمطابق ۲۷ستمبر ۶۲۲ء  آپ  ﷺ قباسے سوار ہوکر بستی بنی سالم میں پہنچے۔اسی روز اسی بستی میں اسلامی تاریخ کا پہلاجمعۃ المبارک ادا کیا گیا۔

٭۱۲ربیع الاول   ۱ھ   بروز جمعہ بمطابق ۲۷ستمبر ۶۲۲ء  آپ  ﷺ  نماز جمعہ سے فارغ ہوکر یثرب کی جنوبی جانب سے شہر میں داخل ہوئے ۔ اسی روزسے اس شہر کانام مدینۃ النبی  ﷺ کہاجانے لگا۔

٭ ربیع الاول    ۱ھ  ؁  میں آپ  ﷺ نے مدینہ میں سب سے پہلے مسجد نبوی کی تعمیر کی۔جسکی دیواریں کچی اینٹ اور گارے سے بنائی گئیں۔ چھت پر کھجور کی شاخیں اور پتے ڈلوادیئے گئے ۔ اور کھجور کے تنے بطور ستون استعمال کئے گئے۔ زمین پر ریت اور چھوٹی کنکریاں بچھادی گئیں ۔ تین دروازے لگائے گئے۔ بنیاد تقریبا تین ہاتھ گہری رکھی گئی ۔ مسجد کی لمبائی اور چوڑائی تقریبا سو سو ہاتھ تھی۔

٭ربیع الاول   ۲ھ  ؁  بمطابق ستمبر  ۲۶۳ء؁  میں ’’غزوہ بواط ‘‘پیش آیا ۔ اس مہم میں رسول اللہ  ﷺ دوسو صحابہ کرام کو ساتھ لیکر روانہ ہوئے ۔ مقصود قریش کا ایک قافلہ تھا جس میں امیہ بن خلف سمیت قریش کے ایک سو آدمی اور ڈھائی ہزار اونٹ تھے۔

٭ربیع الاول   ۲ھ  ؁  بمطابق ستمبر  ۲۶۳ء؁  میں ’’غزوہ سفوان ‘‘بھی پیش آیا ۔ اس غزوہ کی وجہ یہ تھی کہ کرزبن جابر فہری نے مشرکین کی ایک مختصر سی فوج کے ساتھ مدینے کی چراگاہ پر چھاپہ مارا اور کچھ مویشی لوٹ لیئے ۔ رسول اللہ  ﷺ نے ستر صحابہ کرام کے ہمراہ اس کا تعاقب کیا اور بدر کے اطراف میں واقع وادی سفوان تک تشریف لے گئے ۔ اس دوران مدینہ منورہ کی امارت زید بن حارثہ کو سونپی گئی۔

٭ربیع الاول   ۳ھ؁  کعب بن اشرف یہودی کا قتل : یہودیوں میں یہ وہ شخص تھا جسے اسلام اور اہل اسلام سے سخت عداوت اور جلن تھی۔یہ نبی کریم  ﷺ کو اذیتیں پہنچایاکرتا تھا ۔  ایک دن آپ  ﷺ نے فرمایا’’کون ہے جو کعب بن اشرف سے نمٹے کیوںکہ اس نے اللہ اور اسکے رسول  ﷺ کو اذیت دی ہے ‘‘؟ اس کے جواب میں محمد بن مسلمہ ، عباد بن بشر ، ابونائلہ ، حارث بن اوس اور ابوعبس بن جبر نے اپنی خدمات پیش کیں اور اسے ختم کرنے کے بعدیہ دستہ ۱۴ ربیع الاول   ۳ھ؁ کی چاندنی رات میں آپ  ﷺ کے پاس جمع ہوا۔

٭ربیع الاول   ۴ھ؁  اگست ۲۶۵ء؁ میں غزوہ بنو نضیر پیش آیااور اللہ تعالی نے اس سے متعلق پوری سورہ ’’حشر ‘‘نازل فرمائی ۔

٭ربیع الاول   ۵ھ؁  میں غزوہ دومۃ الجندل پیش آیا۔ بدر سے واپس ہوئے تو ہر طر ف امن و امان قائم ہوچکا تھا ۔ بدر صغری سے تقریبا چھ ماہ بعد آپ کو اطلاعات ملیں کہ شام کے قریب دومۃ الجندل کے گرد آباد قبائل آنے جانے والے قافلوں پر ڈاکے ڈال رہے ہیں اور وہاں سے گزرنے والی اشیاء لوٹ لیتے ہیں یہ بھی معلوم ہواکہ انہوں نے مدینے پر حملہ کرنے کیلئے ایک بڑی جمعیت فراہم کرلی ہے ۔ ان اطلاعات کے پیش نظر رسول اللہ  ﷺ نے سباع بن عرفہ غفاریؓ کو مدینے میں اپنا جانشین مقرر فرماکر ایک ہزار مسلمانون کی نفری کے ساتھ کوچ فرمایا ۔ اس غزوہ میں آپ  ﷺ دن میں آرام فرماتے اور رات میں سفر کرتے۔

٭ربیع الاول  ۶ھ  ؁ میں ’’غزوہ بنو لحیان ‘‘ پیش آیا بنو لحیان یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ  ﷺ کے ۱۰ ساتھیوں کو دھوکے سے گھیر کر ۸ کو شہید کردیاتھا اوردو کو اہل مکہ کے ہاتھوں فروخت کردیاتھا۔ آپ  ﷺ نے ان شہداء کا بدلہ لینے کیلئے دوسو صحابہ کرام کی معیت میں ان کا رخ کیا ۔ عبداللہ بن ام مکتوم ؓ  کو اپنا جانشین بنایا۔ اسکے بعد آپ  ﷺ یلغار کرتے ہوئے ’’امج‘‘اور’’عسفان‘‘ کے درمیان ’’  بطن غران ‘‘نامی ایک وادی میں جہاں آپ  ﷺ کے صحابہ کرام کو شہید کیاگیا تھا ۔ پہنچے اور ان کیلئے رحمت کی دعائیں کیں ۔ ادھر بنولحیان کو آپ  ﷺ کی آمد کی خبر ہوگئی تھی اس لئے وہ پہاڑ کی چوٹیوں پر نکل بھاگے ۔

٭ سریہ غمر ، اور سریہ ذوالقصہ  دونوں سرایابھی اسی ربیع الاول  ۶ھ  ؁ میں پیش آئے ۔

 ٭ربیع الاول   ۷ھ؁ میں آں حضرت  ﷺ نے ایک مکتوب لکھا جس میں نجاشی کو اسلام کی دعوت دی اورعمرو بن امیہ ضمریؓ  کے ہاتھ اسے بھیجا جسے پڑھ کر نجاشی فورا مسلمان ہوگیا ۔

٭ربیع الاول   ۷ھ؁ میں نجاشی کی طرف بھیجے گئے اسی خط میں آپ  ﷺ نے اسے لکھا تھا کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی آپ  ﷺ سے شادی کرادے ۔ نجاشی نے ان کی شادی آپ  ﷺ سے کرادی ۔ اور آپ  ﷺ کی طرف سے ۴۰۰ دینار مہر ادا کردیا۔

٭ربیع الاول  ۷ ھ؁ میں’’ غزوہ ذات الرقاع ‘‘ پیش آیا ۔ اس غزوہ میںآپ  ﷺ کی توجہ اس وقت درپیش دشمنوں میں سے تیسرے درجہ کے دشمن یعنی بدّو تھے جو نجد کے صحرامیں خیمہ زن تھے اور رہ رہ کر لوٹ مار کی کاروائیاں کرتے تھے ۔اس کے علاوہ ’’سریہ قُدَید ‘‘بھی اسی ربیع الاول میں پیش آیا۔

 ٭ربیع الاول  ۸ھ  ؁میں ’’سریّہ اطلح ‘‘پیش آیا: بنو قضاعہ نے مسلمانوں پر حملہ کرنے کیلئے بڑی جمعیت فراہم کررکھی تھی ۔ آپ  ﷺ کو علم ہوا تو آپ  نے کعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں صرف پندرہ صحابہ کرام کو ان کی جانب روانہ فرمایا۔ سامنا ہونے پر صحابہ کرام نے انہیں اسلام کی دعوت دی جوکہ انہوں نے قبول کرنے کی بجائے ان صحابہ کرام کوتیروں سے چھلنی کرکے سب کو شہید کردیا ۔صرف ایک آدمی زندہ بچا جو مقتولین کے درمیان سے اٹھالایاگیا۔

٭ربیع الاول  ۸ھ  ؁ ’’سریّہ ذات عرق ‘‘: بنو ہوازن نے بار بار دشمنوں کو کمک پہنچائی تھی ۔ ان کیلئے ۲۵ آمیوں کی کمان دیکر حضرت شجاع بن وہب اسدی رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا گیا۔ یہ لوگ دشمن کے جانور ہانک لائے لیکن جنگ اور چھیڑ چھاڑکی نوبت نہ آئی ۔

٭ ربیع الاول  ۹ھ  ؁ میں ’’سریّہ ضحاک بن سفیان کلابی‘‘ پیش آیا:۔یہ سریہ آپ  ﷺ نے بنو کلاب کو اسلام کی دعوت دینے کیلئے روانہ کیا تھا۔ لیکن انہوں نے انکار کرتے ہوئے جنگ چھیڑ دی۔مسلمانوں نے انہیں شکست دی اور ان کا ایک آدمی تہ تیغ کیا۔

٭ ربیع الاول  ۹ھ  ؁ میں ’’سریّہ علی بن ابی طالب ‘‘ انہیں قبیلہ طی کے ایک بت کو جس کا نام ’قلس‘ (کلیسا) تھا ۔ ڈھانے کیلئے بھیجا ۔حضرت علی ؓ کی سرکردگی میں ایک سواونٹ اور پچاس گھوڑوں سمیت ڈیڑھ سو آدمی تھے۔ مسلمانوں نے فجر کے وقت حاتم طائی کے محلہ پر چھاپہ مارکر قلس کوڈھادیا اور قیدیوں ، چوپایوں اور بھیڑ، بکریوں پر قبضہ کرلیا۔انہیں قیدیوں میں حاتم طائی کی صاحبزادی بھی تھیں۔البتہ حاتم کے صاحبزادے عدی ملک شام بھاگ گئے تھے ۔ مسلمانوں نے قلس کے خزانے میں تین تلواریں اور تین زرہیں پائیں۔  مدینہ پہنچے تو حاتم کی صاحبزادی نے رسول اللہ ﷺ سے رحم کی درخواست کی، آپ  ﷺ نے اسے آزاد کردیا اس وقت آپ  ﷺ کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے ، انہوں نے کہا کہ آپ  ﷺ سے سواری کا سوال بھی کرلو۔ اس نے سواری کا سوال کیا آپ ﷺ نے سواری فراہم کرنے کا بھی حکم صادر فرمادیا۔

٭ربیع الاول   ۱۱ھ  ؁  کے ابتدائی دن آپ  ﷺ نے بیماری کی حالت میں گزارے ۔ یہی بیماری آپ  ﷺ کیلئے مرض الموت کا آغاز تھا ۔ اسی حالت میں آپ  ﷺ نے گیارہ دن نماز پڑھائی۔ مرض کی کل مدت ۱۳ یا ۱۴ دن تھی۔

٭ربیع الاول   ۱۱ھ  ؁ آپ  ﷺ کی زندگی کا آخری ہفتہ : آپ  ﷺ کی طبیعت روز بروز بوجھل ہوتی جارہی تھی ۔ آپ  ﷺ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں منتقل ہوگئے۔ منتقل ہوتے ہوئے حضرت فضل بن عباس اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما نے آپ  ﷺ کو سہارا دیا۔حیات طیبہ کا آخری ہفتہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گزارا ۔  وہ معوذات اور دیگر دعائیں پڑھ کر آپ  ﷺ پر دم کرتیں ۔

٭ربیع الاول   ۱۱ھ  ؁ آپ  ﷺ کی زندگی کے آخری چند دن:ایک روز آپ  ﷺ نے فرمایا کہ مجھ پر سات مختلف کنوؤں کے مشکیزے بہاؤ تاکہ میں لوگوں کے پاس جاکر وصیت کرسکوں۔ جب آپ  ﷺ نے کچھ تخفیف محسوس کی تو مسجد تشریف لے گئے ۔سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی ۔ منبر پر فروکش ہوئے۔ بیٹھ کر خطبہ دیا۔  صحابہ کرام گرداگر دجمع تھے۔ فرمایا’’یہودونصاری پر اللہ کی لعنت ۔ کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنایا‘‘۔پھر آپ  ﷺ نے اپنے آپ کو قصاص کیلئے پیش کیااور فرمایا’’میں نے کسی کی پیٹھ پر کوڑا مارا ہو تو میری پیٹھ حاضر ہے ۔ وہ بدلہ لے لے ، اور کسی کی بے آبروئی کی ہو تو میری آبرو حاضر ہے ، بدلہ لے لے ‘‘۔

٭آپ  ﷺ  نے فرمایا’’ایک بندے کو اللہ تعالی نے اختیار دیاہے کہ یاتو دنیاکی چمک دمک اور زیب وزینت میں سے جوچاہے اللہ اسے دے دے ۔ یا اللہ تعالے کے پاس جوکچھ ہے اسے اختیار کرلے ۔ تو اس بندے نے اللہ کے پاس والی چیز کواختیار کرلیا۔‘‘یہ سن کر حضرت ابو بکر رونے لگے ۔ کہ وقت آپ  ﷺ  سے جدائی کا قریب آن پہنچاہے۔

 ٭آپ  ﷺ کی زندگی کے آخری روز آپ  ﷺنے اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور ان سے کچھ سرگوشی کی وہ رونے لگیں ، آپ نے انہیں پھر بلایا اور کچھ سرگوشی کی تو وہ ہنسنے لگیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ بعد میںہمارے دریافت کرنے پر انہوں نے بتایاکہ (پہلی بار) نبی کریم  ﷺ نے مجھ سے سرگوشی کرتے ہوئے بتایاکہ آپ  ﷺ اسی مرض میں وفات پاجائیں گے ۔ اس غم میں میں رودی ۔ (بحوالہ بخاری شریف جلد۲ /۶۳۸)

٭یہی ربیع الاول کامہینہ تھا کہ آپ  ﷺ شدید کرب سے دوچار تھے اسے دیکھ کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بے ساختہ پکاراٹھیں ۔ واکَربَ اَبَاہ۔ ہائے اباجان کی تکلیف جس کے جواب میں آپ  ﷺ نے فرمایا ا’’آج کے بعد تمہارے ابا پر کوئی تکلیف نہیں‘‘(بحوالہ صحیح بخاری۲/۶۴۱)

 ٭آپ  ﷺ کی تاریخ وفات کے بارے میں اختلاف  پایاگیاہے  بخاری شریف کی شرح عمدۃ القاری کے صفحہ نمبر ۹۹ جلد نمبر ۱۶ میں کئی اقوال ہیںمثلا:۱۲، ،۱۳،۱۴،۱۵ربیع الاول میں وفات ہوئی ،البدایۃ والنہایہ ، طبقات ابن سعد ، سیرت طیبہ ، اورسیرت محمدیہ میں کئی اقوال ہیںمثلا :ربیع الاول کے شروع میں ، ، ’’ صفر کے آخری دو دن سے آپ کی بیماری شروع ہوئی اور۱۲ربیع الاول کوآپ فوت ہوئے‘‘۔اور اسی کوجمہورسیرت نگاروںنے جیسے محمد بن سعد اور امام واقدی وغیرہ نے درست کہاہے ،  ممتاز سیرت نگار مولانا صفی الرحمن ؒمبارکپوری (جنہیں سیر ت النبی  ﷺ کے موضوع پر مثالی کتاب لکھنے پروالی حرمین کی طرف سے نوبل انعام ملا) نے اپنی کتاب الرحیق المختوم میں آپ  ﷺ کی تاریخ وفات ۱۲ربیع الاول نقل کی ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جس دن رسول للہ  ﷺہجرت کرکے ہمارے ہاں (مدینہ میں)تشریف لائے تھے اس سے بہتر اورتابناک دن میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ اور جس دن رسول اللہ  ﷺ نے وفات پائی اس سے زیادہ قبیح اورتاریک دن بھی میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ (بحوالہ سنن دارمی ، مشکواۃ شریف ۲/۵۴۷)

٭بوقت وفات آپ  ﷺ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر ٹیک لگائے ہوئے تھے ، آپ  ﷺ کو حضرت علی ،حضرت عباس ، اور ان کے دوبیٹے فضل اور قثم نے غسل دیا، آپ  ﷺ کے آزاد کردہ غلام شقران ، حضرت اسامہ بن زید اور اوس بن خولی رضی اللہ عنہم آپ کی کروٹ بدلنے والے تھے ۔حضرت اوس آپ  ﷺ کو اپنے سینے سے ٹیک لگا ئے ہوئے تھے ۔ اسکے بعد آپ  ﷺ کو تین سفید یمنی چادروں میں کفنایاگیا۔تیسرے دن آپ  ﷺ جس جگہ فوت ہوئے (عائشہ رضی اللہ عنہاکے حجرہ ) میں تدفین ہوئی ۔

٭اسکے بعد باری باری دس دس صحابہ کرام نے حجرہ شریف میں داخل ہوکرنماز جنازہ پڑھی ، کوئی امام نہ تھا۔

یہ ان تاریخی واقعات میں سے چندتھے جو آپ  ﷺ کی زندگی کے ماہ ربیع الاول میں پیش آئے ۔

 

 

    افسوس کہ آج مسلمان اپنی  تاریخ بھلابیٹھے ہیں ۔