ماہ شعبان کی فضیلت و عبادت اور حقیقت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نصف شعبان کی رات خاص عبادت کا اہتمام کرنا نبی کریم ﷺ یا آپ کے صحابہ کرام سے بسند صحیح ثابت نہیں ہے۔

البتہ نبی کریم ﷺ سوموار اور جمعرات کے دن روزہ رکھتے تھے ، دریافت کیاگیا تو فرمایا ان دنوں میں اعمال اللہ تعالی کی طرف اٹھائے جاتے ہیں میں چاہتاہوں کہ میرے اعمال رب تعالی کے حضور پیش ہوں تو میرے اعمال میں روزہ ہو،

اسی طرح ماہ شعبان میں بھی  آپ بہت زیادہ روزہ رکھتے اور فرماتے کہ اس ماہ میں بھی اعمال اللہ تعالی کے ہاں پیش کیئے جاتے ہیں اور میں اپنے اعمال میں روزہ داری کو پسند کرتاہوں۔

(أحمد ،النسائي وابن خزيمة في صحيحه ،حسنہ الالبانی)

محترم قارئین کرام!

محمدمصطفی احمدمجتبی خاتم النبیین ﷺ کا طریقہ تو یہ تھا کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رمضان المبارک کے علاوہ کسی مہینے میں نبی کریم ﷺ اتنے روزے نہ رکھتے    تھے جنتے شعبان کے مہینے میں رکھتے۔   

   رَوَاهُ الْبُخَارِىُّ

سیدہ کائنات عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں:

وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلاَّ رَمَضَانَ ، وَمَا رَأَيْتُهُ فِى شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِى شَعْبَانَ

:میں نے رسول اللہ ﷺ کو رمضان کے علاوہ پورے مہینے کے روزے رکھتے نہیں دیکھا اور دیگرمہینوں میں سب سے زیادہ شعبان میں روزے رکھتے تھے۔

رَوَاهُ الْبُخَارِىُّ

 . كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلاَّ قَلِيلاً

نبی کریم ﷺ شعبان کے بہت ہی کم روزے چھوڑتے تھے۔

رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِى الصَّحِيحِ

فضائل شعبان میں پیش کی جانے والی روایات کی حقیقت:

 إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَغْفِرُلِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعَرِ غَنَمِ كَلْبٍ (مسنداحمد)وأخرجه عبد بن حميد في "المنتخب" (1509) ، والترمذي (739) وابن ماجه (1389) ، والدارقطني في "النزول" (89)إسناده ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة، ولانقطاعه

بے شک اللہ تعالی نصف شعبان کی رات آسمان دنیا پر نازل ہوتاہے اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ لوگوں کو معاف فرمادیتاہے۔

اس روایت کو مسنداحمد، عبدابن حمید ،سنن الترمذی ،ابن ماجہ اور دارقطنی نے روایت کیاہے ، اصحاب الحدیث نے اس کو ضعیف قرار دیاہے۔ لہذا حجت نہیں۔

فوائد:اللہ تعالی آسمان دنیا پرنازل ہوتاہے۔اپنے بندوں کو معافی دیتاہے۔نصف شعبان کی رات جاگنا یا عبادت کرنا ثابت نہیں ہوتا۔

 عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَخَرَجْتُ، فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ، رَافِعٌ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ لِي: أَكُنْتِ تَخَافِينَ أَنْ يَحِيفَ اللهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ، قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِكَ، فَقَالَ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعَرِ غَنَمِ كَلْبٍ

(ضعيف - ابن ماجه 1389 (برقم 295 والمشكاة 1299 الصفحة 406 ، ضعيف الجامع الصغير 1761)

شعبان کے فضائل میں یہ روایت ضعیف ہے ،اور قابل حجت نہیں ۔

عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نے نبی علیہ السلام کو اپنے بسترپر نہ پایا،

میں آپ کی طرف گئی توآپ ﷺ بقیع قبرستان میں آسمان کی طرف سراٹھائے دعافرمارہے تھے،

 مجھے دیکھ کر فرمایا:تمہیں اس بات کا اندیشہ ہوگیاتھاکہ اللہ اور اس کے رسول تم پر ظلم کریں گے؟

میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میں سمجھی تھی کہ شاید آپ اپنی کسی زوجہ کے پاس گئے ہوں گے،

نبی ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالی نصف شعبان کی رات آسمان دنیا پر نزول فرماتاہے،

اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ لوگوں کو معاف فرماتاہے۔

فوائد:نبی کریم ﷺ اپنے اہل خانہ کوبتائے بغیر دعا کے لئے بقیع تشریف لاتے ہیں۔

اہل خانہ کو اہتمام کے ساتھ قبرستان لے جانانبی کریمﷺ کا طریقہ نہیں۔

اللہ تعالی نازل ہوتاہے۔ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی عرش پر ہے۔کیونکہ نزول ہمیشہ بلندی سے ہوتاہے ۔قبرستان میں چراغاں کرنا۔ دھوم دھام سے اہل خانہ اور دوستوں کوبھی لے کر جانا، مٹھائیاں اور شیرینی بانٹنا ۔ آپ ﷺ کا طریقہ نہ تھا، لہذا ہمیں آپ ﷺ کے طریقے کو چھوڑکر کچھ اور کرتے ہوئے اللہ تعالی کا خوف اپنے دل میں زندہ کرنا چاہئے کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا:

جو لوگ نبی کریم ﷺ کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں اللہ تعالی کی طرف سے عذاب کی پکڑ میں آنے سے ڈرجاناچاہئے۔

معزز قارئین کرام!

اس کے علاوہ کسی بھی قسم کی خاص عبادت کا اہتمام نبی کریم ﷺ ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم ، تابعین عظام یا ائمہ سلف رحمہم اللہ سے ثابت نہیں ہے۔

لہذا : خاص قسم کی 100رکعتوں والی نماز کا اہتمام کرنا ،نیز پٹاخے بجانااور چراغاں کا اہتمام کرنا اپنے اسلاف کے نقش سے روگردانی کے مترادف ہے۔

البتہ :نبی کریم ﷺ نے نصف شعبان کے بعد اور اسی طرح آمد رمضان المبارک سے ایک دو دن قبل استقبال رمضان کے روزوں سے بھی منع فرمایاہے۔وماتوفیقی الا باللہ۔